خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 171 of 703

خطبات نور — Page 171

171 تزکیہ نفس کا سلسلہ یعنی مامورین الہی کا وجود کیوں ختم ہو جاوے؟ اور جیسے رسولوں کی رسالت کسی کی رائے اور کہنے پر نہیں ہوتی تو خلافت کسی کے کہنے سے کیوں ہو ؟ جو مامور اور مرسل آتے ہیں وہ خدا ہی کے انتخاب سے آتے ہیں۔مخالفت صرف اس لئے ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی قدرت نمائی ہو اور وہ بتلاوے کہ یہ ہمارا انتخاب اور ہمارے ہاتھ کا پودا ہے۔اسی لئے ان لوگوں کے بیرونی اور اندرونی دشمن پیدا ہو جاتے ہیں جن کو یہ لوگ بڑے زور سے چیلنج دیتے ہیں۔اِعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ (الانعام:۳۲) کہ تم اپنی جگہ کوئی دقیقہ میری تباہی اور ناکامی کا ہرگز نہ چھوڑو اور کام کئے جاؤ اور میں بھی اپنا کام کر رہا ہوں۔انجام کار خود پتہ لگ جاوے گا کہ مظفر و منصور کون ہے؟ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَاجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَ شُرَكَانَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَى وَلَا تُنْظِرُونِ (یونس (۷۲) کہ میرا بھروسہ خدا پر ہے۔تم سب جمع ہو کر جو جیلہ چاہو کر لو اور ایسا کرو کہ تم کو اپنی کامیابی میں کوئی شک و شبہ نہ رہے اور کوئی مفر میرے لئے نہ رہنے دو۔پھر دیکھ لو کہ تم ناکام اور میں بامراد ہوتا ہوں کہ نہیں۔پس ایسے ایسے موقعوں پر خدا تعالٰی اپنے مرسلوں کے دشمنوں کو بیدست و پا کر کے بتلاتا ہے کہ دیکھو میں اس کا محافظ ہوں کہ نہیں اور یہ ہمارا مرسل ہے کہ نہیں۔غرضیکہ انبیاء کی بعثت میں ایک سر ہوتا ہے کہ ان کے ذریعہ سے الہی تصرف اور اقتدار کا پتہ لگتا ہے۔بیعت کے معنے اپنے آپ کو بیچ دینے کے ہیں اور جب انسان کسی کو دوسرے کے ہاتھ پر بیچ دیتا ہے تو اس کا اپنا کچھ نہیں رہتا۔صحابہ کرام نے اپنے نفسوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر بیچ کر آپ کی اطاعت کو کہاں تک مد نظر رکھا ہوا تھا، اس کا حال دو حکایتوں سے معلوم ہوتا ہے جن کا ذکر میں کرتا ہوں۔جمعہ کے روز خطبہ ہو رہا تھا اور لوگ کھڑے ہوئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ بیٹھ جاؤ۔عبد اللہ ابن مسعود ایک صحابی اس وقت مسجد کی گلی میں آرہے تھے۔آپ کو بھی یہ آواز پہنچ گئی اور جہاں تھے وہیں بیٹھ گئے۔لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہا کہ میں نے سمجھا کہ خدا معلوم مسجد جانے تک جان ہوگی یا نہ۔یہ حکم سنا ہے۔اسی وقت اس کی تعمیل کرلوں۔دوسرا واقعہ ایک صحابی کعب نامی کا ہے جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی اور دولتمند آدمی تعد آپ نے جب غزوہ تبوک کی تیاری کا حکم جماعت کو دیا تو ہر ایک شخص اپنی اپنی جگہ تیاری کرنے لگا اور کعب نے خیال کیا کہ چونکہ میں ایک امیر آدمی ہوں اس لئے جس وقت چاہوں گا ہر ایک سامان مہیا کروں گا۔چونکہ بستی کوئی بڑی نہ تھی کہ افراط سے ہر ایک شے موجود ہوتی، اس لئے لوگ تو طیاری