خطبات نور — Page 138
138 اعمال پر نگاہ کرو جب کہ ان کے الدَّال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ان کی جزائے نیک آپ کے اعمال میں شامل ہو کر کیسی ترقی مدارج کا موجب ہو رہی ہے۔اعمال میں دیکھو اتباع ، فتوحات، عادات علوم اخلاق میں کس کس قسم کی کوثریں عطا فرمائی ہیں۔آدمی وہ بخشے جن کے نام لیکر عقل حیران ہوتی ہے۔ابو بکر، عمر، عثمان، علی رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے لوگ عباسیوں اور مردانیوں جیسے۔کیا انتخاب سے ایسے آدمی مل سکتے ہیں کہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پانی گرانے کا حکم دیں خون گرانے کے لئے تیار ہو جائیں ؟ جگہ وہ بخشی که ایران ، توران مصر شام ہند تمہارا ہی ہے۔وہ ہیبت اور جبروت آپ کو عطا فرمائی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی طرف کا ارادہ کرتے تو ایک مہینہ کی دور راہ کے بادشاہوں کے دل کانپ جاتے۔اللہ جب دیتا ہے تو اس طرح دیتا ہے۔یہ بڑا لمبا مضمون ہے جو اس تھوڑے وقت میں بیان نہیں ہو سکتا۔مختلف شاخوں اور شعبوں میں جو کوثر آپ کو عطا ہوئی ایک مستقل کتاب اس پر لکھی جاسکتی ہے۔باطنی دولت کا یہ حال ہے کہ تیرہ سو برس کی تو میں جانتا نہیں، اپنی بات بتاتا ہوں۔جس قدر مذاہب ہیں میں نے ان کو مولا ہے۔ان کو پرکھ پر کھ کر دیکھا ہے۔قرآن کریم کے تین تین لفظوں سے میں ان کو رد کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔کوئی باطل مذہب اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔میں نے تجربہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب اور طرز انسان کے پاس ہو تو باطل مذاہب خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی ، وہ ٹھہر نہیں سکتے۔پھر استحکام و حفاظت مذہب کے لئے دیکھو۔جس قدر مذہب دنیا میں موجود ہیں یعنی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں، ان کی حفاظت کا ذمہ وار اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ٹھرایا ہے مگر قرآن کریم کی تعلیم کے لئے فرمایا إِنَّالَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر: یہ کیا کوثر ہے! اللہ تعالیٰ خود اس دین کی نصرت اور تائید اور حفاظت فرماتا اور اپنے مخلص بندوں کو دنیا میں بھیجتا ہے جو اپنے کمالات اور تعلقات الہیہ میں ایک نمونہ ہوتے ہیں۔ان کو دیکھ کر معلوم ہو جاتا ہے کہ ایک انسان کیونکر خدا تعالیٰ کو اپنا بنا لیتا ہے۔ہر صدی کے سر پر وہ ایک مجدد آتا ہے جو ایک خاص جماعت قائم کرتا ہے۔میرا اعتقاد تو یہ ہے کہ ہر ۵۰٬۴۵ اور سو برس پر آتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا کوثر ہو گا؟ پھر سارے مذہب میں دعا کو مانتے ہیں اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ جب بندہ اپنے مولیٰ سے کچھ مانگتا ہے تو اسے کچھ نہ کچھ ضرور ملتا ہے۔گو مانگنے کے مختلف طریق ہیں مگر مشترک طور پر یہ سب مانتے ہیں کہ جو