خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 73 of 703

خطبات نور — Page 73

73 فرمانبرداری بدوں فرمان کے نہیں ہو سکتی اور کوئی فرمان اس وقت تک عمل کے نیچے نہیں آتا جبتک کہ اس کی سمجھ نہ ہو۔پھر اس فرمان کے سمجھنے کے لئے کسی معلم کی ضرورت ہے اور الہی فرمان کی سمجھ بدوں کسی مزکی اور مطہر القلب کے کسی کو نہیں آتی۔کیونکہ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعه :۸۰) خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔پس کیسی ضرورت ہے امام کی کیسی مزکی کی۔میں تمہیں اپنی بات سناؤں۔تمہارا کنبہ ہے میرا بھی ہے۔تمہیں ضرورتیں ہیں۔مجھے بھی آئے دن اور ضرورتوں کے علاوہ کتابوں کا جنون لگا رہتا ہے۔مگر اس پر بھی تم کو وقت نہیں ملتا کہ یہاں آؤ۔موقع نہیں ملتا کہ پاس بیٹھنے سے کیا انوار ملتے ہیں۔فرصت نہیں ، رخصت نہیں۔سنو! تم سب سے زیادہ کمانے کا ڈھب بھی مجھے آتا ہے۔شہروں میں رہوں تو بہت سا روپیہ کما سکتا ہوں۔مگر ضرورت محسوس ہوتی ہے بیمار کو۔ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ کا زمانہ ہے۔میرے لئے تو یہاں سے ایک دم بھی باہر جانا موت کے برابر معلوم ہوتا ہے۔تم شائد دیکھتے ہوگے کہ یہاں کھیت لہلہا رہے ہیں۔دنیا اپنے کاروبار میں اسی طرح مصروف ہے۔مگر میرا ایک دوست لکھتا ہے کہ وہا کے باعث گاؤں کے گاؤں خالی ہو گئے ہیں۔بے فکر ہو کر مت بیٹھو۔خدا کے درد ناک عذاب کا پتہ نہیں کس وقت آپکڑے۔غرض اس وقت سخت ضرورت ہے اس امر کی کہ تم اس شخص کے پاس بار بار آؤ جو دنیا کی اصلاح کے واسطے آیا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ جو شخص اس زمانہ میں خدا کی طرف سے آیا ہے وہ ابکم نہیں ہے بلکہ علی وجہ البصیرت تمہیں بلاتا ہے۔تم چاہتے ہو کہ اشتہاروں اور کتابوں ہی کو پڑھ کر فائدہ اٹھالو اور انہیں ہی کافی سمجھو۔میں سچ کہتا ہوں اور قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہرگز نہیں۔کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بے فائدہ اپنے وطنوں اور عزیز و اقارب کو چھوڑا تھا۔پھر تم کیوں اس ضرورت کو محسوس نہیں کرتے۔کیا تم ہم کو نادان سمجھے ہو جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں؟ کیا ہماری ضرورتیں نہیں ؟ کیا ہم کو روپیہ کمانا نہیں آتا؟ پھر یہاں سے ایک گھنٹہ غیر حاضری بھی کیوں موت معلوم ہوتی ہے۔شائد اس لئے کہ میری بیماری بڑھی ہوئی ہو۔دعاؤں سے فائدہ پہنچ جاوے تو پہنچ جاوے مگر صحبت میں نہ رہنے سے تو کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔مختلف اوقات میں آنا چاہئے۔بعض دن ہنسی ہی میں گزر جاتا ہے اس لئے وہ شخص جو اسی دن آکر چلا گیا وہ کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عورتوں میں بیٹھے ہوئے قصہ کر رہے ہوں گے اس وقت جو عورت آئی ہو گی تو حیران ہی ہو کر گئی ہو گی۔غرض میرا مقصد یہ ہے کہ میں تمہیں توجہ دلاؤں کہ تم یہاں بار بار آؤ اور مختلف اوقات میں آؤ۔