خطبات نور — Page 68
68 یہ کچی بات ہے کہ ترجمہ مترجم کے ذاتی خیالات ہوتے ہیں۔اب دیکھ لو نصاریٰ قوم تراجم کو ہاتھ میں لے کر کہتے پھرتے ہیں خدا کا کلام ہے۔کتاب مقدس میں یوں لکھا ہے۔حالانکہ اصل کتاب کا پتہ بھی نہیں لگتا کہ کہاں گئی۔بلکہ یہاں تک مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں کہ ابھی تک یہ فیصلہ بھی نہیں ہوا کہ وہ اصلی زبان جس میں انجیل تھی عبرانی تھی یا یونانی۔حالانکہ مسیح علیہ السلام کے آخری کلمات ایلی ایلی لما سبقتانی" اور ان کی قومی اور مادری زبان سے صاف طور پر یہ پتا لگتا ہے کہ وہ عبرانی ہی تھی مگر یہ یونانی کہتے جاتے ہیں۔اصل یہ ہے کہ اصل کتاب کا پتہ ہی نہیں ہے۔اب جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہے وہ ذاتی خیالات ہیں۔غرض اس قسم کا تو مذ ہب کمزور ہے اور پھر اس پر طرفہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی طریق اشاعت کی وجہ سے کہیں خوبصورت عورتوں کے ذریعہ تبلیغ کر کے، کہیں ہسپتالوں کے ڈھنگ ڈال کر اخبارات اور رسالہ جات کی اشاعت سے کوئی قوم کوئی خاندان ایسا نہیں چھوڑا جس میں سے کسی نہ کسی کو گمراہ نہ کر لیا ہو۔یہ آفت ہی اسلام کے لئے کم نہ تھی کہ ایک اور قوم اٹھی جو اپنا وجود تو دو ارب سال سے بتاتی ہے مگر آج تک اتنا بھی نہ ہوا کہ اپنی پاک کتاب کو ہند سے باہر ہی کسی قوم کو سنا دیتی۔ہند سے باہر تو بہت بڑی بات تھی وہ تو اپنے گھر میں بھی برہمنوں کے سوا باقی قوموں کو اس سے آگاہ کرنا گناہ سمجھتی رہی اور اب تک اصل سناتن دھرم والے وید کا پڑھنا بحجز برہمن کے دوسرے کے واسطے جائز نہیں سمجھتے۔یہ قوم بھی با ایں ہمہ اسلام پر اعتراض کرنے کو آگے بڑھی۔فلسفہ، طبعی اور طباعت وغیرہ علوم کی ترقی ، آزادی اور حریت کے بے طرح بڑھنے نے ایک اور قوم کو پیدا کر دیا جو اپنے آپ کو برہمو کہتے ہیں۔انہوں نے سلسلہ نبوت ہی کا انکار کر دیا ہے اور اپنے ہی کانشنس کو سب کچھ سمجھ لیا حالانکہ وہ تفریق نہیں کر سکتے کہ ایک زناکار کا کانشنس زناہی کا مجوز کیوں ہے یا ایک ڈاکو اور راہزن خون کرنے اور لوٹ کھسوٹ ہی کا فتویٰ جب دیتا ہے تو وہ گناہ کیوں ہے؟ پھر ان سے اتر کر وہ لڑکے ہیں جن پر آئندہ نسلیں ہونے کا فخر کیا جاتا ہے اور ان کو اپنی بہتری اور بہبودی کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔ان کو سکولوں اور کالجوں میں اس قسم کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جن کا لازمی نتیجہ دہریت اور بے دینی ہونی چاہیے۔اس لئے کروڑ در کروڑ مخلوق دہریت کے لئے تیار ہو رہی ہے۔ان کالجوں کی ذریت بجائے اس کے کہ وہ خدا پرست اور اعلیٰ درجہ کے الہیات میں غور کرنے والے ہوتے، پکے دہریہ اور مذہب کے