خطبات نور — Page 648
کی مخالفت کرتے ہیں۔648 کوئی موسیٰ پر ہی مدار نہ تھا۔وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ اس کے بعد بھی رسول آتے رہے۔سلیمان داؤد بھی اس کے بعد ہی آئے۔عیسی بن مریم کو بھی کھلے کھلے نشانات اور تعلیمیں جن پر کوئی اعتراض نہ آتا تھا دیئے۔وہ اخلاقی تعلیم تھی مان لیتے تو کیا حرج تھا۔پھر جب تعلیم آئی بِمَا لَا تَهْوَى أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ تم اسے پسند نہیں کرتے اور اسے اپنے مناسب حال بناتے ہو۔فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ ایک کو تو تم نے جھٹلایا وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ اور ایک کو اب بھی قتل کرنا چاہتے ہو۔وَقَالُوا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ (البقرة: ۸۹)۔عربی زبان میں نامختون کو غلف کہتے ہیں اور عرب لوگ نامختون کو اچھا نہ جانتے تھے مگر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ کے لئے اس لفظ کو بھی اپنے لئے پسند کیا اور کہا کہ ہمارے دل نا مختون ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا بَلْ لَّعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ (البقرة:۸۹) یہ تمہارے کفر کے سبب تم پر لعنت ہوئی۔وَلَمَّا جَاءَ هُمْ كِتَبٌ مِّنْ عِنْدِ اللهِ (البقرة) جب ان کے پاس اللہ کی کتاب آئی جو اس کتاب کی اور پیشگوئیوں کی تصدیق کرتی ہے جو تمہارے پاس ہیں۔تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد آمد کی خبر دے رہے تھے۔جیسا میں نے اپنے زمانہ میں دیکھا کہ لوگ مہدی کے لئے رو رو کر دعائیں کرتے تھے مگروہ آیا بھی اور چلا بھی گیا مگر کسی کو خبر نہ ہوئی۔اس کے مریدوں میں بھی طرح طرح کی بد معاملگیاں اور فریب دھو کہ بازی اور چالاکیاں ہیں۔یہ کیا ایمان ہے؟ اصل بات یہ ہے فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَّا عَرَفُوا كَفَرُوايه (البقرة:9)۔آئے پر انکار ہی ہوتا ہے۔پھر دل لعنتی ہو جاتے ہیں۔ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔میں نے دیکھا ہے۔دکاندار غلطیاں کرتے ہیں اور فریب کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے بیچ کیا اور اس کا نتیجہ عمدہ ہو گا اور ہمیں نفع ہو گا۔مگر وہ ان کے لئے اچھا نہیں ہوتا اور وہ ان کے لئے فائدہ مند نہیں ہوتا۔میرا جی چاہتا ہے کہ تم اب بھی توبہ کر لو مگر ایسی توبہ نہیں کہ اگر پھر کبھی ارغد عیش مل گیا تو پھر وہی خراب حالت کرلی اور کہا کہ پھر توبہ کرلیں گے۔کسی نے خوب اس کے مناسب حال مصرع کہا ہے۔ع معصیت را خنده می آید ز استغفار ما ہماری استغفار ایسی ہے کہ گناہ بھی اس سے بنتے ہیں۔انگریزوں کی سالہا سال سے کمپنیاں چل رہی ہیں۔