خطبات نور — Page 609
609 جو آیت میں نے اس وقت پڑھی ہے اس پر غور کرو۔کسی انسان کو کچھ سکھلایا۔جب اسے سکھلایا تو پھر تمام لوگوں کو حکم دیا کہ اس کی فرمانبرداری کرو۔یہ ہمارا تعلیم یافتہ ہے۔یہاں تک کہ فرشتوں کو کہا کہ تم بھی فرمانبرداری کرو۔وہ سعید الفطرت تھے ، تابع ہو گئے مگر ابلیس نہ ہوا۔اس نے انکار و استکبار سے کام لیا۔اور ہم نے آدم کو حکم دیا کہ تو اور تیرا ساتھی آرام سے رہو۔پھر انہیں کسی چیز سے منع کر دیا جیسے ہماری سرکار کو بعض درختوں سے ممانعت تھی۔ایک شخص رسول اللہ کے حضور ایک ٹوکری لایا جس میں لہسن پیاز و گند نا تھا۔آپ نے فرمایا یہ کیا چیز ہے اسے اٹھالو۔میں تو اسے نہیں کھاتا۔اسی طرح ایک دن میں نے نماز پڑھی۔میرے ساتھ ایک شخص ایسا کھڑا ہو گیا جو حقہ پی کر آیا تھا۔میرا دل اس کی بدبو سے متلی کرنے لگا۔نماز کے بعد میں نے اسے کہا کہ مہربانی فرما کر آپ ایسی حالت میں گھر نماز پڑھ لیا کریں۔غرض آدم کو ایک درخت سے منع کیا۔ایک موذی جانور ان کے پیچھے پڑ گیا۔بحالت نسیان اس نے بد راہ کیا تو جس مزے میں تھا وہ مزا جاتا رہا۔لوگ غلطیاں کرتے ہیں اور ہمیں کہتے ہیں معاف کر دو۔حالا نکہ معاف کر دینے والا تو اللہ ہے۔ایک شخص آتشک یا سوزاک لایا ہے۔اب وہاں میری معافی کیا کر سکتی ہے۔اللہ ہی فضل کرے تو شفا دے۔جن لوگوں نے فضولیاں کر کے دکھ اٹھایا ہے وہ مجھے آ آ کر کہتے ہیں کہ معاف کر دو۔معاف تو کر دیا مگر اس فضولی کا اثر تو جب جائے کہ وہ فضولی چھوڑ دیں۔ابلیس اسے کہتے ہیں جو اپنی ذات میں شریر ہو اور جب اس کی شرارت دوسروں تک پہنچاتی ہو تو وہ شیطان کہلاتا ہے۔اس نے پھلانا چاہا اور اللہ نے آدم و حوا کو اس حالت سے نکال کر دوسری میں کر دیا اور فرمایا کہ بعض تمہارے بعض کے دشمن ہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض کو بعض سے عداوت ضرور ہوتی ہے۔نہ کے کیڑے کے پاس اگر کستوری رکھ دودہ مرجائے گا۔اسی طرح بعض لوگ پاک تعلیم سے پاخانہ۔چڑتے ہیں۔میں یہاں کھڑا وعظ کر رہا تھا۔ایک کہنے لگا جو نصیحت کرتے ہو اس پر کوئی عمل بھی کر سکتا ہے؟ پس نصیحت بیکار ہے۔میں نے کہا۔کیا قرآن بیکار ہے؟ مسلمان تھا ڈر گیا۔اسی طرح ایک شخص نے مجھے کہا۔کہ آپ کے درس میں اس لئے نہیں آتا کہ وہاں جن گناہوں کا لڑکوں کو علم نہیں ہو تا وہ بھی معلوم ہو جاتے ہیں۔میں نے اسے بھی کہا کہ پہلا اعتراض تیرا قرآن پر ہے کیونکہ اس میں سب گناہوں کا ذکر ہے۔غرض بعض بعض کے خلاف ہیں۔اور یہ دشمنی کا بیج اس لئے ہے کہ بڑے ہوشیار ہو کر لوگ گزارہ کریں۔آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے اور اس پر فضل ہوا۔اور اللہ نے حکم دیا کہ اب جب کبھی ་་