خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 522 of 703

خطبات نور — Page 522

۲۷ ستمبر ۱۹۱۲ء مسجد اقصی قادیان 522 خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ میں سورۃ نَوَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونِ (القلم:۳۲) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔دنیا میں انسان ایک عجب معجون ہے۔اس نے زمین کو پھاڑا۔پہاڑوں کو چیرا۔سمندر کی تہ سے موتی نکالے۔ہوا سمندر روشنی پر حکومت کرتا ہے۔باوجود اس کمال کے کسی اور کے نمونہ کو اختیار کرنا چاہتا ہے۔تاجر کسی بڑے تاجر ، سپاہی کسی بڑے کمان افسر کی طرح بننا چاہتا ہے۔راولپنڈی کے ایک دربار میں پرنس آف ویلز کی شان و شوکت دیکھ کر ایک احمق نے مضمون لکھا کہ کاش میں ہی پرنس ہو تا۔ایک میرا دوست مرض جذام میں گرفتار یہاں آیا۔مجھے کہنے لگا عقل مند نہیں معلوم ہوتے۔آپ مجھے اجازت دیں میں کوشش کروں۔فوراً آپ کو زمین کے بڑے مربعے دلا سکتا ہوں۔آپ بادشاہ بن جائیں گے۔میں نے اسے کہا تم نہیں جانتے۔خوشی اور شے ہے۔تم مجھے زمین دلواتے ہو۔خود تو بڑے زمیندار ہو۔مگر دیکھو تم میں ایسی بیماری ہے کہ تمہارے رشتہ دار بھی تم سے نفرت کرتے ہیں۔پھر وہ زمین کس کام۔غرض ہر شخص کسی نمونہ کو سمجھنے کا خواہشمند ہے۔کوئی حسن و جمال کا شیدا کوئی ناموری چاہتا کوئی