خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 523 of 703

خطبات نور — Page 523

523 حکومت کو پسند کرتا کوئی کسی اور بڑائی کا حریص ہے۔اس واسطے اللہ تعالیٰ ان کے واسطے ایک نمونہ پیش کرتا ہے۔دوات اور قلم ہو اور اس سے جو کچھ لکھا جا سکتا ہے۔سیاسی لوگ سیاست پر کتب لکھتے ناولسٹ ناول لکھتے اور مختلف لکھنے والے مختلف اشیاء پر لکھتے۔اور ان کی تحریریں جمع کرو۔یہ ثابت ہو گا کہ محمد رسول مجنون نہیں تھا۔اس نے جو کچھ خلقت کے سامنے پیش کیا وہ حق و حکمت سے پر اور اس نے جو تحریر پیش کی ہے اس کا مقابلہ کوئی تحریر دنیا بھر کی نہیں کر سکتی۔تمام تعلیمات جن پر عمل کر کے انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے وہ سب اس کتاب میں جمع ہیں۔دلیل یہ ہے کہ مجنون کے نہ رونے کی کسی کو پرواہ ہے۔نہ اس کے بننے کی کسی کو خواہش ہے۔نہ اس کی طاقت کی قدر ہو سکتی ہے۔وہ سارا دن سوئے جاگے ، بیٹھے۔سردی میں ننگا گرمی میں لحاف لئے۔اس کی محنت کا بدلہ نہیں۔لیکن اے نبی! تیری محنتوں کا ثمرہ غیر ممنون ہے۔اس کا خاتمہ نہیں۔ہم نے خود تجربہ کیا ہے۔آنحضرت کے ہر کام کا پھل ہمیشہ قائم ہے۔پھر مجنون کے اخلاق نہیں ہوتے۔وہ دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنالیتا ہے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم بڑے اخلاق اعلیٰ رکھتے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ قرآن لائف آف محمد ہے خُلُقُهُ الْقُرْآنُ - پھر فرمایا۔دیکھو اے مخالفو! اس کے مقابلہ میں کسی کا زور نہ چلے گا۔یہ بھی دیکھے گا اور تم بھی دیکھو گے کہ کون فتمند ہوتا ہے؟ عرب اور عجم کوئی اس کے بالمقابل کامیاب نہ ہو سکے گا۔یہ اس کی صداقت کی دلیل ہے۔اگر تم کوئی نمونہ اعلیٰ چاہتے ہو اور وعدہ خداوندی فَمَنْ تَبعَ هُدَای سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ علم کیلئے قرآن شریف اور عملی زندگی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عملد رآمد بس ہے۔آج سمت ۱۹۰۹ ہے۔اس سے پیچھے جاؤ تو میری یادداشت میں سمت ۱۹۰۲ کی باتیں موجود۔سمت ۱۹۰۳ میں مجھے خوب یاد ہے کہ ایک ڈا کو پکڑا گیا تھا اور سکھوں نے اس کا سرکاٹ کر بھیرہ کے دروازہ چٹی پلی پر لٹکا دیا تھا۔مجھے خوب یاد ہے۔غرض اس وقت سے لے کر آج تک جس نسخہ کو بہت آزمایا اور سچا پایا ہے وہ یہی کہ فتح اور نصرت اور کامیابی کے حصول کا ایک ہی نسخہ قرآن شریف ہے۔(پدر جلد ۱۲ نمبر ۱۵-۱۰۰ر اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳) ⭑-⭑-⭑-⭑