خطبات نور — Page 483
483 خطرات نور غرض تم زبان سے سبحان اللہ کا ورد کرو تو اس کے ساتھ دل سے بھی ایسا اعتقاد کرو اور اپنے دل کو تمام قسم کے گندے خیالات سے پاک کر دو۔اگر کوئی تکلیف پہنچے تو سمجھو کہ مالک ہماری اصلاح کے لئے ایسا کرتا ہے۔پھر اس سے آگے اللہ توفیق دے تو اللہ کے اسماء پر اللہ کے صفات و افعال پر اللہ کی کتاب پر اللہ کے رسول پر جو لوگ اعتراض کرتے اور عیب لگاتے ہیں ان کو دور کرو اور ان کا پاک ہونا بیان کرو۔ہمارے ملک میں اس قسم کے اعتراضوں کی آزادی حضرت جلال الدین اکبر بادشاہ کے عہد میں شروع ہوئی ہے کیونکہ اس کے دربار میں وسعت خیالات والے لوگ پیدا ہو گئے۔اس آزادی سے لوگوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور مطاعن کا دروازہ کھول دیا۔ان اعتراضوں کو دور کرنے کے لئے ہمارے بزرگوں نے بہت کوشش کی ہے۔چنانچہ شیخ المشائخ حضرت شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی بہت کوشش کی ہے۔جلال الدین اکبر نے جب صدر جہان کو لکھا کہ چار عالم بھیجیں جو ہمارے سامنے ان اعتراضوں کے جواب دیا کریں تو یہ بات حضرت مجدد صاحب کے کان میں بھی پہنچی۔انہوں نے صدر کو خط لکھا کہ آپ مہربانی سے کوشش کریں کہ بادشاہ کے حضور صرف ایک ہی عالم جائے چار نہ ہوں۔خواہ کسی مذہب کا ہو مگر ہو ایک ہی۔کیونکہ اگر چہار جائیں گے تو ہر ایک چاہے گا کہ میں بادشا کا قرب حاصل کروں اور باقی تین کو ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا۔اگر چاروں گئے تو بجائے اس کے کہ دین کا تذکرہ ہو ایک دوسرے کو رد کر کے چاروں ذلیل ہو جاویں گے اور یہ لوگ اپنی بات کی بیچ میں بادشاہ کو ملحد کر دیں گے۔یہ تو اس وقت کا ذکر ہے جب اسلام کی سلطنت تھی۔اسلام کے متوالے دنیا میں موجود تھے۔اس وقت کا بیج بویا ہوا اب تین سو برس کے بعد ایک درخت بن گیا ہے۔کیسے دکھ کا زمانہ ہے کہ نبی کریم کے سوانگ ڈراموں میں بنائے جاتے ہیں۔عجیب عجیب رنگوں میں لوگ دھوکہ دیتے ہیں جس سے متاثر ہو کر بعض لڑکوں نے غنیمت کی آیت پر لکھ دیا۔محمد لٹیرا تھا۔اگرچہ اس کا جواب مجھے دیا گیا کہ نقل اعتراض تھا، مگر یہ داغ مٹتا نہیں۔اور میں سربان القضاء کا مسئلہ خوب جانتا ہوں۔اسی کی ماتحت اس کو لا کر اس کا ذکر کرتا ہوں۔پس میری سمجھ میں یہ وقت ہے کہ جہاں تک تم میں کسی سے ہو سکے اللہ کے اسماء صفات افعال اللہ کی کتاب اللہ کے رسول اللہ کے رسول کے نواب و خلفاء کی پاکیزگی بیان کرے اور ان پر جو اعتراض ہوتے ہیں انہیں بقدر اپنی طاقت کے سلامت روی و امن پسندی کے ساتھ دور کرنے کی