خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 433 of 703

خطبات نور — Page 433

433 چنانچہ اس نے فرمایا کہ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِى (فاطر ) حقیقی غنی اللہ کی ذات ہے اور سراپا احتیاج انسان۔جو احتیاج میں ہے اس کے برابر کوئی ذلیل نہیں۔اسی لئے اسے حکم ہے خدا کے حضور تذلل کا۔پھر انسان اپنے وجود میں اپنے بقاء میں وفع امراض میں ، رنج و راحت، عسر ونیر، فرض ہر حالت میں اللہ کا محتاج ہے۔اللہ کے لفظ میں قربانی کی تعلیم ، پس اللہ کا نام انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ حقیقی معبود حقیقی مطاع، حقیقی غنی وہی ذات ہے اور حقیقتاً محتاج حقیقتاً ذلیل ، حقیقتاً مطیع وہ انسان ہے جس کو اللہ نے پیدا کیا اور جو اپنی بقا میں ہر آن اس کے فضل کا محتاج ہے۔اس فضل کے جذب کے لئے اطاعت فرض ہے۔اب اس کی اطاعت کی راہیں معلوم کرنے کے واسطے نبی کی ضرورت ہے۔کیونکہ جب ایک انسان دوسرے انسان کی رضامندی کی راہیں معلوم نہیں کر سکتا تو اس وراء الوراء ذات کی رضامندی کی راہیں کیونکر معلوم ہو سکتی ہیں سوا اس کے کہ وہ خود ہی بتائے۔چنانچہ اس نے نبوت کا سلسلہ قائم کیا جس کے لمبے کارخانے ہیں۔اس میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے عام مخلوق کی محبت انبیاء کی محبت پر قربان کی جاتی ہے اسی طرح انبیاء کی محبت اللہ کی محبت پر قربان کرنی پڑتی ہے۔تمام انبیاء نے الوہیت کے مسئلہ پر بڑا زور دیا ہے مگر میں نے اکثر واعظوں کو دیکھا ہے کہ وہ خدا کی عظمت اور جبروت کے اظہار کے لئے وعظ نہیں کرتے بلکہ ان میں سے بعض کا منشاء تو یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو رلا دیں۔بعض اس بات میں اپنا کمال سمجھتے ہیں کہ ایک روایت سے رلائیں اور دوسری سے ہنساویں۔ابتدائی زمانے میں ایک کتاب میرے پاس تھی جس کا نام تھا ”بحر ظرافت"۔ایک مولوی واعظ ہمارے ہاں آئے۔انہوں نے مجھے کہا یہ کتاب مجھے دیدو۔میں نے کہا اسے آپ کیا کریں گے؟ اس میں تو محض تمسخر ہے۔آپ نے کہا کہ وعظ میں ایک کمال ہنسانے کا ہے جو اس کے ذریعے پورا ہو جائے گا۔بعض وعظ کا کمال اس میں سمجھتے ہیں کہ ان کے وعظ کے اخیر میں کوئی شخص اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر ان کے مذہب میں شامل ہو جائے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (ال عمران:۱۶۵)۔وعظ میں عبودیت کا رنگ ہو اللہ کی کتاب پڑھی جاوے، اس کی حقیقت بنائی جاوے اور پھر اس کی تعلیم سے دل اس قسم کے پیدا ہوں جو اس تعلیم کے ساتھ مطہرو پاک ہو جاویں۔ایک بھی ہزار لوگوں میں سے ایسا پیدا ہو جاوے تو غنیمت ہے بلکہ اکسیر احمر ہے۔۔IN