خطبات نور — Page 401
۲۵ جون ۱۹۰۹ء 401 خطبہ جمعہ حضور نے قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ (الناس:۲ تا ۷) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اس سورۃ کو اخیر میں لانے میں یہ حکمت ہے کہ قرآن کو ختم کر کے اور شروع کرتے ہوئے اَعُوذُ پڑھنا چاہئے۔چونکہ یہ طریق مسنون ہے کہ قرآن کریم ختم کرتے ہی شروع کر دینا چاہئے اس لئے نہایت عمدہ موقع پر یہ سورۃ ہے۔بخاری صاحب نے اپنی کتاب کو إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ شروع کیا ہے تاکہ سامعین لوگ اور معلم اور متعلم اپنی اپنی نیتوں پر غور کر لیں۔یاد رکھو جہاں خزانہ ہوتا ہے وہیں چور کا ڈر ہے۔قرآن مجید ایک بے بہا خزانہ ہے۔اس کے لئے خطرہ شیطانی عظیم الشان ہے۔قرآن کی ابتدا میں يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا (البقرة:۳۷) پڑھ کر دل کانپ جاتا ہے۔اپنی رسومات کے ادا کرنے کے لئے تو مکان بلکہ زمین تک بیچنے سے بھی نہیں ڈرتے مگر خدا کے لئے ایک پیسہ نکالنا بھی دوبھر ہے۔ایک قرآن پر عمل کرنے سے پہلو تہی ہے اور خود وضع داری و تکلف و رسوم کے ماتحت جو کچھ