خطبات نور — Page 32
32 ہو جاتی ہے۔پھر اگر کوئی احکم الحاکمین کی بتائی راہ اپنا دستور العمل نہ بنادے تو کیونکر دکھوں اور ذلتوں سے بچ سکتا ہے۔یاد رکھو کہ حکم حاکم کی نافرمانی حسب حیثیت حاکم ہوا کرتی ہے۔یہ ذلت بھی اسی قدر ہو گی جس قدر کہ حاکم کے اختیارات ہیں۔دنیا کے حاکم جو محدود حکومت رکھتے ہیں ان کی نافرمانی کی ذلت بھی محدود ہی ہے۔مگر خدا تعالیٰ جو غیر محدود اختیارات رکھتا ہے اس کے حکم کی خلاف ورزی میں ذلت بھی طویل ہوگی۔گو یہ سچ ہے کہ سَبَقَتْ رَحْمَتِي عَلَى غَضَبِی میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے مگر جیسی کہ اس کی طاقتیں وسیع ہیں اسی انداز سے نافرمان کی ذلت بھی ہونی چاہئے اور ہو گی۔ہاں بہت سی سزائیں ایسی ہیں کہ انسان ان کو دیکھتا ہے اور بہت سی سزائیں ہیں کہ ان کو نہیں دیکھ سکتے۔تو غرض یہ ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ خدا کے قانون اور حکم کی اگر پرواہ نہ کریں گے تو کیا نقصان ہے؟ نہیں نہیں۔خبردار ہو جاؤ۔مولیٰ فرماتا ہے إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَلَا سِلاً وَأَغْلَالًا وَّسَعِيرًا (الدھر:٥) منکر کو تین قسم کی سزا دیں گے۔ہر ایک انسان کا جی چاہتا ہے کہ میں آزاد رہوں۔جہاں میری خواہش ہو وہاں پہنچ سکوں۔پھر چاہتا ہے کہ جہاں چاہوں حسب خواہش نظارہ ہائے مطلوبہ دیکھوں اور آخر جی کو خوش کروں۔کہیں جانا پڑے تو جاؤں اور کہیں سے بھاگنا پڑے تو وہاں سے بھاگوں اور کسی چیز کو دیکھنا پڑے تو اسے دیکھوں۔بہرحال اپنا دل ٹھنڈا رکھوں۔پس یہ تین عظیم الشان امور ہیں۔اگر کہیں جاتا ہے تو منشا ہے کہ دل خوش ہو۔کسی کو دیکھتا ہے تو اس لئے کہ جان کو راحت ملے۔نتیجہ بہر حال دل کی خوشی ہے مگر جب انسان خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر کرتا ہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان نعمتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اولاً تین ہی نعمتوں کا ذکر کیا ہے عطاء وجود عطاء سمع ، عطاء بصر ان نعمتوں سے اگر کوئی جاتی رہے تو کیا سچی خوشی اور حقیقی راحت مل سکتی ہے ؟ کبھی نہیں۔پھر خاص الخاص نعمت جو انبیاء علیم السلام کے ذریعہ لی ہے اس کے انکار سے کب راحت پاسکتا ہے ؟ قانون اٹھی اور شریعت خداوندی کو توڑتا ہے کہ راحت ملے مگر راحت کہاں؟ دیکھ لو ایک نابکار انسان حدود اللہ کو توڑ کر زنا کا ارتکاب کرتا ہے کہ اسے لذت و سرور ملے۔مگر نتیجہ کیا ہے کہ اگر آتشک اور سوزاک میں مثلاً مبتلا ہو گیا تو بجائے اس کے کہ جسم کو راحت و آرام پہنچاوے دل کو سوزش اور بدن کو جلن نصیب ہوتی ہے۔قانون الہی کو -