خطبات نور — Page 334
334 ایک یہ زمانہ ہے کہ در اصل اگر غور کیا جاوے تو آمدنیاں کم مگر خرچ زیادہ ہیں۔آمدنی بڑھی تو خرچ بھی ساتھ ہی ترقی کر گئے۔کیونکہ بوجہ زیادتی اخراجات کے لوگ اکثر ادھر ادھر سے آمدنی کے بڑھانے کے واسطے بہت قسم کے ناجائز و سائل اختیار کرتے ہیں۔اکثر یہی کوشش دیکھی گئی ہے کہ روپیہ آجاوے۔اس بات کی پروا نہیں کہ وہ حلال ہے یا حرام۔یہی وجہ ہے کہ وہ بے برکت ہوتا ہے۔تعلیم کا حال دیکھ لو کیسی گراں ہو گئی ہے۔حتیٰ کہ گورنمنٹ جو ترقی تعلیم کی از بس مشتاق اور حریص تھی اسے مشکلات آگئے کہ اب وہ لڑکوں کے پاس کرنے میں مضائقہ کرتی ہے اور اس فکر میں ہے کہ کسی طرح یہ سلسلہ کمی پر آجاوے۔اور وہ اپنے ارادوں میں کامیاب ہوگی اور ضرور ہوگی۔کیونکہ خدا کو جب تک ان کی سلطنت منظور ہے تب تک ان کی نصرت بھی کرے گا۔غرض یہ کہ اگر اپنی چالا کی اور ناجائز تدابیر اور ناجائز ذرائع سے مالوں کو بڑھانے کی کوشش کرو گے تو دوسری طرف خدا اس کو خاک میں ملاتا جاوے گا۔اس وقت ایک واقعہ مجھے یاد آگیا ہے کہ ایک شخص نہایت خوبصورت صندوق جس میں مختلف قسم کے رنگارنگ کوئی سرخ کوئی سفید کوئی زرد قسم کے ٹکڑے کانچ کے تھے ایک رئیس کے پاس لایا اور پیش کیا کہ آپ اس کو خرید لیں۔مگر وہ رئیس بڑا عقل مند تھا۔اگر چہ مشرک تھا اور مشرک عقل مند نہیں ہوتا مگر ایک قسم کی جزوی عقل تھی۔وہ بات کو سمجھ گیا اور کہا کہ یہ شخص شریر تو نہیں ہے اس کو دھو کہ لگا ہے۔اگر شریر ہو تا تو اس کو میرے پاس آنے کی اس طرح جرات نہ ہوتی۔یہ سوچ کر اس سے کہا کہ میں ان کو خریدنے کی طاقت نہیں رکھتا۔البتہ یہ ایک ہزار روپیہ تم کو دیا جاتا ہے اس بات کے بدلے کہ تم نے ایسی نایاب چیز ہمیں دکھائی۔وہ شخص بہت خوش ہو گیا۔رئیس نے اس سے یہ بھی کہہ دیا کہ تم چند روز یہیں ٹھہر جاؤ۔پھر ایک دو دن بعد بلوا کر پوچھا کہ تم نے یہ صندوق کہاں سے لیا۔اس نے سارا ماجرا کہہ دیا کہ جب دلی کے غدر کے موقع پر افرا تفری پڑی تو میں نے سنا ہوا تھا کہ بادشاہ اپنے پاس اس قسم کا ایک مختصر صندوقچہ رکھا کرتے ہیں کہ وقت ضرورت کام آوے۔تو میں سب سے پہلے قلعہ میں کودا اور یہ صندو قیر لے بھاگ رئیس کو یقین آ گیا کہ واقعی یہی بات ہے۔مگر اس شخص کے ساتھ کہیں دھوکا کیا گیا ہے۔اس نے پوچھا تو پھر سارا ماجرا بیان کرو کہ یہاں آنے تک اور کیا کیا باتیں پیش آئیں۔تو اس پر اس شخص نے بیان کیا کہ رستے میں ایک اور شخص بھی میرا ہم سفر ہوا اور اس کے پاس بھی ایک صندوق تھا اور وہ یہی تھا۔اثنائے راہ میں وہ گاہ گاہ مجھے کھول کر اپنا صندوقچہ دکھایا بھی کرتا تھا اور ذکر کرتا تھا کہ میں نے بھی دلی کی افرا تفری میں حاصل کیا ہے۔مگر چونکہ اس کا صندوقچہ میرے سے عمدہ تھا اور اس کا مال بھی میرے مال سے اچھا تھا اور