خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 328 of 703

خطبات نور — Page 328

328 ہے قُلْ يَايُّهَا الْكَافِرُونَ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمزوری کی حالت میں بھی خدائی تائید اور نصرت کی وجہ سے جو آپ کے شامل حال تھی اور اس کامل اور بچے علم کی وجہ سے جو آپ کو خدا کے وعدوں پر تھا، آپ میں ایسی قوت اور غیرت و حمیت موجود تھی کہ آپ تبلیغ احکام الہی میں ان کے سامنے ہرگز ہرگز ذلیل نہ تھے بلکہ آپ کے ساتھ خدا کی خاص نصرت اور حق کا رعب اور جلال ہوا کرتا تھا۔پس اس سے مسلمانوں کو یہ سبق لینا چاہئے کہ حق کے پہنچانے میں ہرگز ہر گز کمزوری نہ دکھائیں اور دینی معاملات میں ایک خاص غیرت اور جوش اور صداقت کے پہنچانے میں کچی حمیت رکھیں۔کافر کا لفظ عرب کے محاورے میں ایسا نہیں تھا جیسا کہ ہمارے ملک میں کسی کو کافر کہنا گویا آگ لگا دینا ہے۔وہ لوگ چونکہ اہل زبان تھے خوب جانتے تھے کہ کسی کی بات کا نہ ماننے والا اس کا کافر ہوتا ہے اور ہم چونکہ آپ کی بات نہیں مانتے اس واسطے آپ ہمیں اس رنگ میں خطاب کرتے ہیں۔قرآن شریف میں خود مسلمانوں کی صفت بھی کفر بیان ہوئی ہے جہاں فرمایا ہے يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ (البقره: ۲۵۷)۔معلوم ہوا کہ کفر مسلمان کی بھی ایک صفت ہے مگر آج کل ہمارے ملک میں غلط سے غلط بلکہ خطرناک سے خطرناک استعمال میں آیا ہے۔کسی نے کسی کو کافر کہا اور وہ دست و گریبان ہوا۔اصل میں کافر کا لفظ دل دکھانے کے واسطے نہیں تھا بلکہ یہ تو ایک واقعہ کا اظہار و بیان تھا۔وہ لوگ تو اس لفظ اور خطاب کو خوشی سے قبول کرتے تھے۔قُلْ يَايُّهَا الْكَافِرُونَ کے معنی ہوئے کہ وے اے کا فرو! ہوشیار ہو کر اور توجہ سے میری بات کو من لو لا أعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ میں ان بتوں کی ان خیالات کی، ان رسوم و رواج کی اور ان ظنوں کی فرمانبرداری نہیں کرتا جن کی تم کرتے ہو۔ان لوگوں میں اکثر لوگ تو ایسے ہی تھے جو رسم و رواج عادات اور بتوں کی اور ظنوں اور وہموں کی پوجا میں غرق تھے۔ہاں بعض ایسے بھی تھے کہ جو دہریہ تھے مگر زیادہ حصہ ان میں سے اول الذکر لوگوں میں سے تھے۔خدا کو بڑا خدا جانتے تھے اور خدا سے انکار نہ کرتے تھے۔بعض ایسے بھی کافر تھے جو خدا کو بھی مانتے تھے اور بتوں سے بھی الگ تھے۔رسم و رواج میں بھی نہ پڑے تھے۔آنحضرت کے پاس آنے کو اور آپ کی فرمانبرداری کرنے میں اپنی سرداری کی ہتک جانتے تھے اور ان کے واسطے ان کا کبر اور بڑائی ہی حجاب اور باعث کفر ہو رہی تھی۔وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ اور نہ ہی تم میرے معبود کی عبادت کرتے نظر آتے ہو۔وَلَا انا عَابِدٌ مَّا عَبَدُتُم اور نہ ہی میں کبھی تمہاری طرز عبادت میں آؤں گا۔