خطبات نور — Page 329
329 وَلَا انْتُمْ عَابِدُونَ مَا اعْبُدُ اور نہ ہی تم اپنے رسم و رواج، جتھے اور خیالات، اپنے بتوں اور مہنتوں کو چھوڑتے نظر آتے ہو۔تو اچھا پھر ہمارا تمہارا یوں فیصلہ ہوگا کہ لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِيَ دِينِ میرے اعمال اور عقائد کا نتیجہ میں پاؤں گا اور تمہارے بد کردار اور عقائد فاسدہ کی سزا تم کو ملے گی۔پھر اس وقت پتہ لگ جاوے گا کہ کون صادق اور کون کا ذب ہے ؟ اس کا جو نتیجہ نکلا وہ دنیا جانتی ہے۔ہر ایک نے سن لیا ہو گا کہ آنحضرت دنیا سے کس حالت میں اٹھائے گئے اور آپ کے اتباع کو دنیا میں کیا کچھ اعزاز اور کامیابی نصیب ہوئی اور آپ کے وہ دشمن کہاں گئے اور ان کا کیا حشر ہوا؟ کسی کو ان کے ناموں سے بھی واقفیت نہیں۔پس یہی نمونہ اور مابہ الامتیاز ہمیشہ کے واسطے صادق اور کاذب میں خدا کی طرف سے مقرر ہے۔فقط۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۸-۰-۱۸/ اپریل ۱۹۰۸ء صفحه ۱۴-۱۵)