خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 24 of 703

خطبات نور — Page 24

24 اٹھاوے۔یہ بھی ایک سنت اللہ چلی آتی ہے کہ خلفاء پر مطاعن ہوتے ہیں۔آدم پر مطاعن کرنے والی خبیث روح کی ذریت بھی اب تک موجود ہے۔صحابہ کرام پر مطاعن کرنے والے روافض اب بھی ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کو تمکنت دیتا ہے اور خوف کو امن سے بدل دیتا ہے۔بچے پرستار الہی اور مخلص عابد بنو۔خدا کی طرف قدم اٹھاؤ۔یہاں بھی رَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلَامَ دِينًا (المائدة:) فرمایا۔اسلام کا لفظ چاہتا ہے کہ کچھ کر کے دکھاؤ۔موجودہ حالت میں ہم نے (ہم سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے امام کے ہاتھ پر تو بہ کی ہے) اور مسلمانوں سے بڑھ کر امتیاز پیدا کیا ہے۔ہم میں علم ہے۔ہم میں ہادی اور امام ہے۔ہم میں وہ ہے جس کی خدا تائید کرتا ہے۔جس کے ساتھ خدا کے بڑے بڑے وعدے ہیں۔اس کو حکم اور عدل بنا کر خدا نے بھیجا ہے۔مگر تم اپنی حالتوں کو دیکھو۔کیا مدد اور عمل درآمد کے لئے بھی ایسا ہی قدم اٹھایا ہے جیسا کہ واجب ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے سورۃ ہود نے بوڑھا کر دیا۔اس میں کیا بات تھی؟ فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ (هود: (۱۳) تم سیدھی چال چلو نہ صرف تم بلکہ تیرے ساتھ والے بھی۔یہ ساتھ والوں کو جس نے حضور کو بوڑھا کر دیا۔انسان اپنا ذمہ دار تو ہو سکتا ہے مگر ساتھیوں کا ذمہ دار ہو تو کیونکر؟ بس یہ بہت خطرہ کا مقام ہے۔ایسا نہ ہو کہ تمہاری غفلتوں سے اللہ تعالیٰ کے وہ وعدے جو تمہارے امام کے ساتھ ہیں ، پورا ہونے میں معرض توقف میں پڑیں۔موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی کے ساتھ کنعان پہنچانے کا وعدہ تھا مگر قوم کی غفلت نے اسے محروم کر دیا۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور خوب سمجھو۔غفلت چھوڑ دو اور اس نعمت کی قدر کرو جو آج کے مبارک دن میں پوری ہوئی۔میں پھر کہتا ہوں کہ فرماں بردار بن کر دکھاؤ۔لہ خطبہ ثانیہ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ - فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ - إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الابْتَرُ (الكوثر : ۲ تا ۴) یہ ایک مختصرسی سورۃ ہے اور اس مختصر سی سورۃ شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان پیشگوئی بیان فرمائی ہے جو جامع ہے۔پھر اس کے پورا ہونے پر شکریہ میں مخلوق الہی کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے اس کا ارشاد کیا۔وہ پیشگوئی کیا ہے؟ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَر تجھے ہم نے جو کچھ دیا ہے بہت ہی بڑا دیا ہے۔عظیم الشان خیر عطا کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن نبوت دیکھو تو قیامت تک وسیع۔کسی دوسرے نبی کو اس قدر وسیع وقت نہیں ملا۔یہ کثرت تو بلحاظ زمان ہوئی اور بلحاظ مکان یہ کثرت کہ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف:۵۹) میں ظاہر فرمایا کہ میں سارے جہان کا رسول ہوں۔یہ