خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 244 of 703

خطبات نور — Page 244

244 لم یزل کے حضور حاضر ہونے کی ایک تعلیم ہے۔غرض جسمانی سلسلہ کے مقابل ایک روحانی سلسلہ بھی ضرور ہے اور اس کو نہ جاننے کے لئے بعض نادانوں نے اس سوال پر بڑی بحث کی ہے کہ مرکز قومی قلب ہے یا دماغ؟ اصل بات فیصلہ کن یہ ہے کہ جسمانی رنگ میں مرکز دماغ ہے۔کیونکہ تمام جو اس کا تعلق دماغ سے ہے اور روحانی رنگ میں مرکز قلب ہے۔انبیاء علیہم السلام چونکہ روحانیت کی طرف توجہ رکھتے ہیں اس لئے وہ ظاہری نظارہ سے روحانی نظارہ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے سِرَاجًا منيرا (الاحزاب (۳۹) فرمایا ہے اور آپ سراج منیر کیوں نہ ہوتے جبکہ آپ نے دعا فرمائی اللَّهُمَّ اجْعَلُ فَوْقِى نُورًا وَّ شِمَالِى نُورًا وَّ اجْعَلْنِي نُورًا (بخاری کتاب الدعوات و ترمذی کتاب الدعوات) (یہ بڑی لمبی دعا ہے)۔خیر جب اس حقیقی سورج نے دیکھا کہ سورج کو گرہن لگ گیا یعنی کچھ ایسے اسباب پیش آگئے جن سے سورج کی روشنی سے اہل زمین مستفید نہیں ہو سکتے تو اس نظارہ سے آپ کا دل پھڑک اٹھا کہ کہیں میرا فیضان پہنچنے میں بھی کوئی ایسی ہی آسمانی روک نہ پیش آجائے۔اس لئے آپ نے اس وقت تک صدقہ دعا استغفار، نماز کو نہ چھوڑا جب تک سورج کی روشنی با قاعدہ طور سے زمین پر پہنچنی شروع نہ ہو گئی۔اب چونکہ ہر ایک مومن شخص بھی بقدر اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نور رکھتا ہے جیسے باپ بیٹے کا اثر۔چنانچہ اس لئے فرمایا مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (الاحزاب :(۳) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسمانی بیٹا نہیں تو روحانی بیٹے بے شمار ہیں۔اس لئے ہر مومن بھی ایسے نظارہ پر گھبراتا ہے اور گھبرانا چاہئے کہ کہیں ایسے اسباب پیش نہ آجائیں جن سے ہمارا نور دوسروں تک پہنچنے میں روک ہو جائے۔اس لئے وہ ان ذرائع سے کام لیتا ہے جو مصیبت کے انکشاف کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں یعنی صدقہ خیرات کرتا ہے، استغفار پڑھتا ہے اور نماز میں کھڑا ہو جاتا ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مشکل کے وقت نماز میں کھڑے ہو جاتے۔آخر اللہ تعالیٰ کا دریائے رحمت جوش میں آتا ہے اور جیسے وہاں حرکت و دور سے وہ اسباب ہٹ جاتے ہیں جن سے سورج کی روشنی باقاعدہ زمین پر پہنچنی شروع ہو جاتی ہے اسی طرح دعا و استغفار سے مومن کے فیضان پہنچنے میں جو روکیں پیش آجاتی ہیں دور ہو جاتی ہیں۔شیشے پر سیاہی لگا کر یا برہنہ آنکھ سے اپنی آنکھوں کو نقصان پہنچانے کے لئے تماشے کے طور پر اس نظارہ کو دیکھنا مومن کی شان سے بعید ہے۔تم سراج منیر کے بیٹے ہو۔پس اپنے انوار کو دوسروں تک پہنچانے میں تمام مناسب ذرائع استعمال کرو۔چونکہ آپ نے ان آیات پر وعظ شروع کیا تھا جن میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم