خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 223 of 703

خطبات نور — Page 223

223 حاصل ہو جاوے۔اور متکلمین کا یہ مسئلہ بڑاہی حق ہے کہ مطلقا المهام حجت شرعی نہیں ہے جب تک کہ اس کے ثبوت پر قطعی دلائل موجود نہ ہوویں اور نشانات آسمانی و زمینی اس کے ثبوت میں قائم نہ ہو لیویں اور سراس میں کہ غیر مامورین میں بھی استعداد الہامات اور رویاء کی اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے، یہ ہے کہ کارخانہ نبوت کی ایک نظیران میں موجود ہوتا کہ اس نظیر پر قیاس کر کر کارخانہ نبوت کی تصدیق کریں اور ان پر اتمام حجت ہو جاوے اور یہ عذر نہ کر سکیں کہ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (الاعراف:۱۷۳) یعنی فِي أَصْلِ الْفِطْرَةِ فَلَمْ يُوكَّرْ فِينَا أَقْوَالُ الرُّسُل۔اور پھر ایسا مذب جو بعد پہنچ جانے آیات اللہ کے تکذیب کرے اس کا ہدایت پر آنا معلوم نہیں ہوتا۔کیونکہ ایسے شخص کے لئے اتباع اپنے ہوا و ہوس کا مانند طبعی امور کے ہو جاتا ہے جیسا کہ کتنے کی حالت ہوتی ہے کہ ہر حالت میں زبان نکال کر وہ ہانپتا رہتا ہے یعنی یہ ہانپنا کتے کا ایک طبعی امر اس کا ہے جو اس سے جدا نہیں ہو سکتا۔سراس میں یہ ہے کہ سوائے کتے کے اور کسی جانور میں ایسی حالت نہیں پائی جاتی ہے۔مگر ہاں بوقت وقوع مشقت اور تعب کے البتہ ایسی حالت اور حیوانات میں بھی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ کتے کا قلب کچھ ایسا واقع ہوا ہے کہ اندر کی ہوائے گرم کو باہر نکالنے کی قوت اس میں بہت ضعیف ہے۔علی ہذا القیاس باہر سے ہوائے بارد کے جذب کرنے کی قوت بھی اس میں بہت ضعیف ہے۔اس لئے نہ تو ہوائے بارد کو باہر سے پوری طور پر جذب کر سکتا ہے اور نہ ہوائے گرم کو اندر سے باہر بکمال نکال سکتا ہے۔اور جو شخص اپنی ہوا و ہوس کا اتباع باہر کرتا ہے اس کا بھی ایسا ہی حال ہو جاتا ہے کہ جو اس کے اندر مواد ہائے فاسدہ اور حادہ فضلات واجب الا خراج ہیں جو باعث پیدا ہونے اخلاق ردیہ کے ہیں، نہ ان کو بہ سبب اتباع اپنی ہوا کے باہر نکال سکتا ہے جس سے روح انسانی کو تفریح حاصل ہو اور نہ باہر سے اہل حق کے نصائح کو جو مثل ہوائے بارد کے محمد حیات روحانی ہیں، اخذ کر سکتا ہے۔دیباچہ گلستان میں کیا عمدہ بات لکھی ہے کہ ”ہر نفسے کہ فرد میردو محمد حیات است و چون برمی آید مفرح ذات پس در هر نفے دو نعمت موجود است و بر هر نعمتی شکرے واجب"۔اسی لئے ایسا مکذب مامور من اللہ کا بہت جلد رسوا اور تباہ اور ہلاک ہو جاتا ہے۔کیونکہ نہ اس کو تفریح روح انسانی کی حاصل ہوتی ہے اور نہ امداد حیات یابی کی میسر ہوتی ہے۔اسی لئے تاکیداً آگے فرمایا جاتا ہے کہ کیسی بری مثل ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا۔وہ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے ہیں، نہ مامور من اللہ پر۔ولنعم ما قبیل