خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 224 of 703

خطبات نور — Page 224

224 حملہ خود میکنی اے ساده مرد خود حمله کرد بچو آں تیرے کہ دیکھو چراغ دین کو اس نے اپنی تکذیب سے مامور من اللہ کا کیا بگاڑا۔جو کچھ اس نے تکذیب کر کر ظلم کیا وہ اپنی ہی اولاد یعنی فرزندان و دختر اور اپنے نفس پر کیا۔چراغ دین کے گھر کا بے چراغ ہو جانا بدی عبرت کا مقام تھا۔جس پر بعض کو توجہ نہ ہوئی۔تفسیر ابو السعود وغیرہ میں بلعم باعور کے حالات میں لکھا ہے کہ جب اس نے حضرت موسیٰ کی تکذیب کی اور ان پر واسطے بد دعا کرنے کے مشغول ہوا تو اس کو ایک قلبی مرض ایسا عارض ہو گیا کہ مثل کتنے کے اس کی زبان نکل آئی اور مثل کتنے کے ہانپتے ہانپتے ہی مر گیا۔یہ مرض بعید نہ سمجھو کیونکہ امراض کا کیا ٹھکاتا ہے اور ان کو کون شمار میں محدود کر سکتا ہے۔مولوی روم فرماتے ہیں۔۔بازکن بخواں باب العلل بني لشکر تن را عمل جمله ذرات زمین آسماں لشکر حق اند گاه امتحاں خاک قاروں را چو فرمان در رسید تختش بقصر خود کشید با زر موج دریا چوں با هر حق ناخت اہل موسیٰ را ز قبطی را شناخت آتش چوں ابراہیم گزیده حق دنداں نزد بود چونش گزد ہور گرد مومناں خطے کشید نرم می شد ہاد کانجا می رسید