خطبات نور — Page 219
219 علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ آمَنَ شِعرُهُ وَكَفَرَ قَلْبُهُ (صحیح مسلم کتاب الشعر العنی شعر تو اس کا ایمان لے آیا تھا مگر دل اس کا کافر ہی رہا۔یہ اس لئے فرمایا کہ یہ شخص اپنے شعروں میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کیا کرتا تھا اور توحید الہی کے دلائل بھی دیا کرتا تھا اور بیان اعمال صالحہ اور احوال آخرت یعنی جنت و نار کا ذکر بھی ان شعروں میں کیا کرتا تھا اور بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت ابو عامر راہب کے حق میں نازل ہوئی ہے جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فاسق کا لقب دیا تھا۔غرضیکہ اس آیت کا مصداق کوئی ہو، خواہ بلعم باعور ولی مستجاب الدعوات ہو یا امیہ بن ابی الصلت شاعر موحد ہو یا ابو عامر راہب ہو جس نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے دنیا کو ترک کر دیا تھایا اور کوئی ہو بہرحال اس آیت سے صریح یہ امر معلوم ہوتا ہے کہ مامور من اللہ کی مخالفت میں سب مخالف مردود ہو جاتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں نہ کسی کی ایسی ولایت ہی مقبول ہوتی ہے جو مستجاب الدعوات کے مرتبہ پر پہنچ گئی ہو جیسا کہ بلعم باعور ولی حضرت موسیٰ کے وقت میں تھا یا کوئی شخص فصیح و بلیغ شاعر ہو جو توحید الہی کو اپنے قصائد اور اشعار میں نظم کرتا ہو ، مقبول ہو سکتا ہے اور نہ کوئی راہب اور زاہد مخالف مامور من اللہ کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سرسبز ہو سکتا ہے۔بلکہ مامور من اللہ کا مکذب اور مخالف خائب و خاسر، نامراد اور مردود درگاہ الہی ہی ہو جاتا ہے جیسا کہ یہ تینوں شخص باوجود ہونے صاحب ولایت کاملہ کے اور باوجود ہونے موحد عابد زاہد کے مردود ہو گئے جیسا کہ آیت زیر تفسیر میں عبرت حاصل کرنے کے لئے ان کا قصہ ارشاد ہوا ہے۔اور اگر غور کیا جائے تو وہ شخص جو صد ہا آیات و نشانات کی دنیا میں تبلیغ بھی کر چکا ہو بلکہ اپنی زبان اور قلم سے ان صد با نشانات کی دنیا میں تبلیغ بھی کر چکا ہو، اس کی تکذیب موجب عذاب ہونے میں سب سے زیادہ بڑھ کر ہو گی۔دیکھو اہل کتاب کو جو حافظ اور مفسر تورات وغیرہ کے تھے انہیں کو أُولَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ (البينه) فرمایا گیا ہے اور احادیث میں مولویان مکذبین مسیح موعود کے لئے عُلَمَاوِهُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أدِيمِ السَّمَاءِ (مشكوة كتاب العلم) كلام نبوت میں وارد ہوا ہے۔پھر آیت ہذا کے الفاظ پر غور کرو۔اول تو لفظ انسلاخ کا فرمایا گیا ہے جس کا مفہوم ایک جاندار کی کھال کا ادھیڑا جاتا ہے۔دیکھو جس ذی روح کو کہ مُتسلح کیا جاوے اس کو کس قدر تکلیف ہو گی اور وہ حیوان منسلخ کیسا مکروہ اور قبیح معلوم ہوتا ہے۔اس جگہ انسلاخ اسی لئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ نشانات الہیہ کو دیکھ کر پھر بھی ان کا مکذب ہو جانا ایسا ہے جیسا کہ جاندار کی کھال ادھیڑی جاوے اور اس سے یہ بھی مفہوم ہوا کہ ایسا مکذب پھر مصدق بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ جبکہ کسی جانور کی کھال ادھیڑ لی