خطبات نور — Page 203
203 مطلب یہ ہے کہ ایک مرد کامل امت محمدیہ کے طفیل سے حضرت عیسی کا نام دنیا جہان میں روشن ہو گیاور نہ اہل کتاب نے جو یہود و نصاری بد نام کنندہ نکونامے چند ہیں بسبب اپنے کفرو شرک کے اور اپنی بداعمالیوں کے سبب حضرت عیسی کا نام تو میٹنا ہی چاہا تھا بلکہ میٹ چکے تھے مگر ایک غلام احمد نے ان کے نام کو دنیا جہان میں روشن کر دیا۔پس ایک فرد کامل امت محمدیہ میں سے ان کے نام کے ساتھ مبعوث ہوا اور اس سے امت محمدیہ کو کوئی فخر حاصل نہیں ہوا بلکہ حضرت عیسی کو اس بعثت مسیح موعود سے فخر حاصل ہوا ہے۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ- قَالَ اللهُ تَعَالَى كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ (ال عمران )۔اسی لئے آگے اس کے حضرت مریم کی ولادت اور دیگر فقص متعلق اس کے بیان فرمائے جاتے ہیں اور تاکیداً ارشاد ہوتا ہے کہ ان قصوں کو یاد کرتے رہو ایسا نہ ہو کہ بھول جاؤ کہ عمران کی زوجہ نے کہا کہ اے میرے پروردگار! میرے پیٹ میں جو بچہ ہے تیری نذر کیا۔دنیا کے کاموں سے آزاد کیا گیا۔پس اے پروردگار میرے! تو میری طرف سے یہ نذر قبول فرما۔بے شک تو ہے سب کچھ سنتا۔- سب کی نیتوں کو جانتا ہے۔فائدہ: بنی اسرائیل میں یہ دستور تھا کہ ماں باپ اپنے بعض لڑکوں کو اپنی خدمتوں سے آزاد کر کر اللہ تعالیٰ کی نذر کر دیتے تھے اور تمام عمر دنیا کے کاموں میں نہیں لگایا کرتے تھے۔ہمیشہ مسجد میں عبادت کے لئے یا مسجد کی خدمت کرنے کے لئے اور دینیات کے درس کرنے کے لئے چھوڑ دیتے تھے۔عمران کی زوجہ حنا کو جب حمل ہوا تو اس نے حالت حمل ہی میں واسطے خالص رضامندی اللہ تعالٰی کے اول ہی سے یہ نذر کرلی تھی تاکہ مادر زاد ولی پیدا ہو مگر حالت حمل سے ہی شریعت اسلام میں یہ دستور تو نہیں ہے۔لیکن اللہ تبارک و تعالی خود کسی شخص کو برگزیدہ کر کر خالص خدمت دین ہی کے لئے چن لیتا ہے اور اس کی فطرت اور جبلت ہی ایسی پیدا کرتا ہے کہ دنیا کے کاموں کی طرف اس کو رغبت ہی نہیں ہوتی جیسا کہ کلام نبوت میں وارد ہوا ہے۔إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مِّنْ يُعَلَّدَ لَهَا دِينَها (سنن ابوداود کتاب الملاحم و الفتن) اور یہی مراد ہے مولانا روم کے اس شعر سے، اولیاء را کار عقبی اختیار اشقیاء انبیاء اشقیاء در را کار دنیا اختیار کار دنیا جبریند در کار عقی جبر مند