خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 202 of 703

خطبات نور — Page 202

202 پر، جس کا جواب اہل کتاب سے ہرگز نہیں ہو سکتا ہے۔قال الله تعالى رَبَّنَا وَابْعَثُ فِيهِمْ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقرة:١٣٠) سوال۔اصطفائے آل عمران کو آخر میں بیان کرنے کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں معلوم ہوتی کیونکہ آل عمران یعنی حضرت عیسی اور مریم بنی اسرئیل میں سے ہیں جو آل ابراہیم میں داخل ہو چکے ہیں۔پھر آل عمران کو مکرر آخر میں کیوں بیان کیا گیا؟ جواب۔اس تکرار میں ایک سریہ ہے کہ امت محمدیہ میں سے بھی آخر زمانہ میں ایک مثیل عیسی اور نیز مثیل مریم علم الہی میں پیدا ہونے والے تھے جس کو اللہ تعالیٰ نے بطور مثل کے مومنوں کے لئے سورہ تحریم میں اس طرح پر بیان فرمایا ہے۔وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرُنَ الَّتِي اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمْتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ (التحریم:۳۳)۔چنانچہ اس زمانہ آخری میں عیسی اور مریم" کے نام سے ایک مجدد عظیم الشان پیدا ہوا۔پس اس لئے آل عمران یعنی عیسی اور مریم کو باوجود داخل ہونے کے بنی اسرائیل میں دوبارہ جو آل ابراہیم سے ہیں آخر میں ذکر فرمایا گیا۔اور اسی لئے حضرت مریم اور عیسی کی نسبت فرمایا گیا ہے کہ وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ (الانبیاء:۹۲)۔اس آیت میں اگر تھوڑا غور کیا جاوے تو معلوم ہو گا کہ حضرت عیسی اور مریم نہ اپنے زمانہ میں آيَةً لِلْعَالَمِيْنَ ہوئے اور نہ بعد اپنے زمانہ آيَةً لِلْعَالَمِينَ ہونا ان کا ظاہر ہوا ہاں البتہ ان کا ايَةً لِلْعَالَمِيْنَ ہونا اللہ تعالٰی کی طرف سے قرآن مجید میں نازل ہوا تھا۔اس لئے کلام نبوت میں عیسی موعود کے نزول کی پیشگوئی آخر زمانہ کے لئے بیان فرمائی گئی اور اس زمانہ آخری میں اپنے وقت پر ایک مجدد بنام عیسی و مریم پیدا ہوا جس کے سبب سے حضرت عیسی اور مریم “ کا نام نامی تمام عوالم میں روشن ہو گیا اور جو شرک اور بدعت حضرت عیسی یا مریم" کے نام سے دنیا جہان میں پیدا ہو گیا تھا جس کے سبب ان کے آیت ہونے میں بھی شبہات پیدا ہوئے تھے اس عیسی موعود نے اس سب کا محو کر دینا چاہا ہے تاکہ عیسی و مریم جو بندگان مقبول الہی میں سے تھے آيَةً لِلْعَالَمِينَ ہو جاویں۔پس یہ سر تھا آل عمران کو آخر میں مکرر ذکر فرمانے کا۔وَهُذَا مَا الْهَمَنِي رَبِّي وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔اور یہی معنی ہیں اس شعر کے جو کہا گیا ہے۔ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس بہتر غلام احمد ہے