خطبات نور — Page 174
174 دیا۔اس نے مجھے غسان کے حاکم کا خط دیا اور چونکہ میں لکھا پڑا تھا میں نے وہ خط پڑھا۔اس میں لکھا تھا۔اما بعد ! ہم کو خبر پہنچی ہے کہ تیرے صاحب نے تجھ پر ظلم کیا اور خدا تعالٰی نے تجھے ذلیل و ضائع نہیں کیلک تو ہمارے پاس چلا آ ہم تیری پرورش کریں گے۔خط پڑھ کر میں نے دل میں خیال کیا کہ یہ بھی ایک بلا آئی۔(کفار کو ہماری طرف طمع ہو گئی) میں نے اس خط کو تنور میں جلا دیا۔جب اس حال کو چالیس روز ہو گئے تو ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا آیا اور مجھے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے فرمایا ہے کہ تو اپنی عورت سے علیحدہ ہو جا۔میں نے کہا کہ آپ نے طلاق دینے کو فرمایا ہے یا کیا؟ اس نے کہا طلاق کو نہیں فرمایا۔مجامعت سے منع فرمایا ہے اور دوسرے دونوں میرے یاروں کو بھی یہی کہلا بھیجا ہے۔میں نے اپنی عورت کو کہا کہ جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ کا حکم نہیں آتا تو اپنے ماں باپ کے گھر چلی جا۔اور ہلال بن امیہ کی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہلال بن امیہ بوڑھا نا کارہ ہے۔اس کا خادم کوئی نہیں۔کیا آپ اس کی خدمت کرنے سے مجھے منع فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں، بلکہ وہ تجھ سے مقاربت نہ کرے۔اس نے عرض کی کہ خدا تعالیٰ کی قسم ہے وہ اس کام کے لائق ہی نہیں۔واللہ ! وہ جس روز سے اس حال میں مبتلا ہوا ہے آج تک دن رات روتا ہی رہا ہے۔بعضے لوگوں نے مجھے کہا کہ تو بھی اپنی عورت کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کر جیسے ہلال کی عورت نے آپ سے اس کی خدمت کرنے کا اذن لے لیا ہے۔میں نے کہا اگر میں اس امر میں آپ سے عرض کروں، معلوم نہیں آپ کیا جواب دیں اور میں جوان آدمی ہوں (یعنی عورت کے پاس ہوتے مجھے صبر کرنا مشکل ہے)۔یہاں تک کہ دس رات اور گذر گئیں اور ہمارے اس حال کو پچاس راتیں ہو گئیں۔پچاسویں رات کی صبح کو میں فجر کی نماز اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی چھت پر پڑھ کر اسی حالت میں بیٹھا تھا جیسے خدا تعالیٰ نے قرآن میں ہماری خبر دی ہے اور میرا دم بسبب غم کے بند ہو رہا تھا اور زمین باوجود کشائش کے مجھ پر تنگ ہو رہی تھی کہ میں نے ایک آدمی کی آواز سنی کہ پہاڑ سطح پر با آواز بلند کہہ رہا تھا کہ اے کعب بن مالک ! تجھے بشارت ہو۔میں سنتا ہی سجدہ میں گر پڑا اور جان گیا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کشائش آئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھتے ہی لوگوں کو ہماری توبہ کے قبول ہونے کی خبر کر دی۔لوگ ہم کو بشارت دینے شروع ہو گئے اور دونوں میرے یاروں کے پاس بھی بشارت دینے والے پہنچے اور ایک گھوڑا دوڑا کر میری طرف آیا اور ایک آدمی نے بنی اسلم میں پہاڑ پر چڑھ کر آواز کی۔آواز گھوڑے کے سوار سے پہلے پہنچی جب وہ شخص جس کی آواز میں نے سنی تھی میرے پاس آیا تو میں نے اپنے دونوں