خطبات نور — Page 170
170 مشکلات پیش آنے کا یہ باعث ہوا کرتا ہے کہ انسانی طبائع کسی کا محکوم ہونے میں مضائقہ کیا کرتے ہیں۔چنانچہ خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہماری حکومت کو یہ لوگ طوعاً اور کہا مانتے ہیں۔پس جب خدا کی حکومت کا یہ حال ہے تو پھر جب انبیاء علیم السلام کی حکومت ہوتی ہے اس وقت لوگوں کو اور بھی اعتراضات سوجھتے ہیں اور کہتے ہیں۔لَوْ لَانْزِلَ هَذَا الْقُرْانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ (الزخرف:۳۲) کہ وحی کا مستحق فلاں رئیس یا عالم تھا۔اس سے ظاہر ہے کہ لوگ رسول کی بعثت کے لئے خود بھی کچھ صفات اور اسباب تجویز کرتے ہیں جس سے ارادہ الہی بالکل لگا نہیں کھاتا۔علیٰ ہذا القیاس۔جب رسول کے خلیفہ کی حکومت ہو تب تو ان کو مضائقہ پر مضائقہ اور کراہت پر کراہت ہوتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيْشَتَهُمْ (الزخرف:۳۳) کہ کیا یہ لوگ الہی فضل کی خود تقسیم کرتے ہیں؟ حالانکہ دیکھتے ہیں کہ وجہ معاش میں ہم نے ان کو خود مختار نہیں رکھا اور خود ہم نے اس کی تقسیم کی ہے۔پس جب ان کو علم ہے کہ خدا کے ارادہ سے سب کچھ ہوتا ہے تو پھر انبیاء اور ان کے خلفاء کا انتخاب بھی اس کے ارادہ سے ہونا چاہئے۔سورۃ حجرات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِّنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُمْ (الحجرات :) کہ تم میں محمد خدا کا رسول ہے۔اگر تمہاری رائے پر چلے تو تمہیں مشکلوں اور دکھوں کا سامنا ہو۔یہ خدا کا ہی انتخاب ہے جو کہ اپنا کام کئے جا رہا ہے۔یہ اسی کا فعل ہے کہ امام بناوے خلیفہ بنادے۔تمہاری سمجھ وہاں کام نہیں آسکتی۔رموز سلطنت خویش خسرواں دانند۔"اگر اللہ تعالیٰ ایک شخص کو ہمارے کہنے سے مامور کر دے اور اس کے اخلاق ردی ثابت ہوں، ظالم، خود غرض کینہ پرور نکل آوے تو دیکھو کس قدر مشکل پڑے۔اسی لئے لوگوں کو انجمنوں اور سماجوں میں اپنے منتخب کردہ پریذیڈ نٹوں کو منسوخ کرنا پڑتا ہے یا وہ لوگ خود الگ ہو جاتے ہیں۔انسان جب سے پیدا ہوا ہے اپنے جسم کو چیر پھاڑ رہا ہے اور زمین کا ایک ایک روڑا الٹ دیا ہے۔صرف اس لئے کہ اس کے بچاؤ کا سامان نکل آوے مگر دیکھ لو کہ کچھ پیش نہیں گئی۔فن جراحی میں کمال کر دیا۔ہر ایک مرض کے جرم معلوم ہو گئے ہیں مگر پھر بھی بیماریاں ہیں۔موت کا بازار گرم ہے۔اس نے زمانہ سے ۳ لاکھ سال پیشتر تک کا پتہ دیا ہے کہ یہ تھا۔لیکن کل کیا ہو گایا چند منٹوں کے بعد کیا پیش آنے والا ہے؟ اس کا اسے علم نہیں۔پھر کیسی نادانی ہے کہ اس قدر عظیم الشان کام کے انتخاب کو اپنے ذمہ لیتا ہے اور کہتا ہے کہ نبی اور مامور ہمارے کہنے سے ہو۔پیس سوچنے کا مقام ہے کہ جب تلاوت اور تعلیم کا سلسلہ اس دعا کے مطابق ختم نہیں ہوا تو پھر