خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 124 of 703

خطبات نور — Page 124

124 اسی طرح پر ماموروں کی مخالفت خطر ناک گناہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور ہو سکتا ہے۔ابلیس نے یہی گناہ کیا تھا۔انبیاء علیہم السلام کے حضور شیاطین بہت دھو کے دیتے ہیں۔میرے نزدیک وہ لوگ بڑے ہی بد بخت ہیں جو اللہ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ذرہ ذرہ اس پر لعنت بھیجتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ معزز و مکرم اور مطاع ہو تو اس کی مخالفت کرنے والا تباہ نہ ہو تو کیا ہو۔یہی سر ہے جو انبیاء و مرسل اور مامورین کے مخالف ہمیشہ تباہ ہوئے ہیں۔وہ جرم بغاوت کے مجرم ہوتے ہیں۔پس کتابوں کے بعد رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے ورنہ انسان متکبر ہو جاتا ہے اور پہلا گناہ دین میں خلیفتہ اللہ کے مقابل یہی تھا آبی وَاسْتَكْبَرَ (البقرة :(۳۵)۔اس میں شک نہیں کہ سنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ ماموروں پر اعتراض ہوتے ہیں۔اچھے بھی کرتے ہیں اور برے بھی، مگر اچھوں کو رجوع کرنا پڑتا ہے اور برے نہیں کرتے۔مگر مبارک وہی ہیں جو اعتراض سے بچتے ہیں کیونکہ نیکیوں کو بھی آخر مامور کے حضور رجوع اور سجدہ کرنا ہی پڑا ہے۔پس اگر یہ ملک کی طرح بھی ہو پھر بھی اعتراض سے بچے کیونکہ خدا تو سجدہ کرائے بغیر نہ چھوڑے گا ورنہ لعنت کا طوق گلے میں پڑے گا۔جزا و سزا اس کے بعد پانچواں رکن ایمان کا جزا و سزا پر ایمان ہے۔یہ ایک فطرتی اصل ہے اور انسان کی بناوٹ میں داخل ہے کہ جزا اور بدلے کے لئے ہو شیار اور سزا سے مضائقہ کرتا ہے۔یہ ایک فطرتی مسئلہ ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ایک بچہ بھی جب دیکھتا ہے کہ یہاں سے دکھ پہنچے گا وہاں سے ہٹتا ہے اور جہاں راحت پہنچتی ہے وہاں خوشی سے جاتا ہے۔چلا چلا کر بھی جزا لینے کو تیار رہتا ہے یہاں تک کہ فاسق و فاجر کی فطرت میں بھی یہ امر ہے۔ایک آدمی کبھی پسند نہیں کرتا کہ دوسرے کے سامنے ذلیل و خوار ہو۔ہر ایک چاہتا ہے کہ معزز ہو۔میں نے دیکھا ہے کہ فیل ہونے سے ایک بچہ کو کیسی ذلت پہنچتی ہے۔بعض اوقات ان ناکامیوں نے خود کشیاں کرادی ہیں اور پاس ہونے سے کیسی خوشی ہوتی ہے۔زمینداروں کو دیکھا جب بروقت بارش نہ ہو ، پھل کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو کیسا رنج ہوتا ہے لیکن اگر غلہ گھر لے آئے تو کیسا خوش ہوتا ہے۔اسی طرح ہر حرفہ صنعت والا دوکاندار غرض کوئی نہیں چاہتا کہ محنت کا بدلہ نہ ملے اور بچاؤ کا سامان نہ ہو۔پس جب یہ فطرتی امر ہے تو اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایمان کا جزو رکھا ہے کہ جزا و سزا پر ایمان لاؤ۔وہ