خطبات نور — Page 89
89 مخلوق کے دلوں کو کھینچ کر اس کی طرف متوجہ کر دیتے اور ان کو بھی مکالمات الہیہ سے مشرف کر کے یقین ولا دیتے؟ اس وقت بھی بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں۔میں اس نتیجہ پر ان خطوط کو پڑھ کر پہنچا ہوں جو کثرت سے میرے پاس آتے ہیں جن میں لکھا ہوا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے ، ہم نے بہت دعائیں کیں توجہ کی اور کوئی ایسا رویا یا مکالمہ نہیں ہوا۔پس ہم کیونکر جانیں کہ فلاں شخص اپنے اس دعوئی الہام میں سچا ہے؟ یہ ایک خطرناک غلطی ہے جس میں دنیا کا ایک بڑا حصہ ہمیشہ جتلا رہا ہے۔حالانکہ انہوں نے کبھی بھی اپنے اعمال اور افعال پر نگاہ نہیں کی اور کبھی موازنہ نہیں کیا کہ قرب الہی کے کیا وسائل ہیں اور ان کے اختیار کرنے میں کہاں تک بچی محنت اور کوشش سے کام لیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر مشیت حق میں یہ بات ہوتی تو وہ ملائکہ بھیجتا۔یہ مثال ان لوگوں کی طرح ہے جیسے کوئی چھوٹا سا زمیندار جس کے پاس دو چار گھماؤں اراضی ہو اس کو نمبردار کے کہ محاصل ادا کرو اور وہ کہہ دے کہ تو میرے جیسا ہی ایک زمیندار ہے ، تجھ کو مجھ پر کیا فضیلت ہے؟ صرف اپنی عظمت اور شیخی جتانے کو محاصل مانگتا ہے اور ہمارا روپیہ مارنا چاہتا ہے۔اگر کوئی بادشاہ ہو تا تو وہ خود آکر لیتا۔وہ آپ کیوں نہیں آیا؟ مگر لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ وَعَتَوْ عُتُوا كَبِيرًا (الفرقان (۲۲) کیا بڑا بول بولا۔نادان زمیندار بادشاہ کو طلب کرتا ہے۔اسے معلوم نہیں کہ بادشاہ تو رہا ایک طرف اگر ایک معمولی سا چپڑاسی بھی آگیا تو وہ مار مار کر سر گنجا کر دے گا اور محاصل لے لے گا۔اسی طرح ماموروں کے مخالف ایسے ہی اعتراض کیا کرتے ہیں۔لیکن جب ملائکہ کا نزول ہو جاتا ہے پھر ان پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں جو انہیں یا تو چکنا چور کر دیتے ہیں اور یا وہ ذلیل و خوار حالت میں رہ جاتے ہیں اور یا منافقانہ رنگ میں شریک ہو جاتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین قسم کے لوگ ہوئے تھے۔ایک وہ جو سابق اول من المہا جرین تھے اور دوسرے وہ جو فتح کے بعد ملے۔اور تیرے اس وقت جو رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا النصر: ۳) کے مصداق تھے۔اسی طرح جو لوگ عظمت و جبروت الہی کو پہلے نہیں دیکھ سکتے آخر ان کو داخل ہونا پڑتا ہے اور اپنی بودی طبیعت سے اپنے سے زبر دست کے سامنے مامور من اللہ کو ماننا پڑتا ہے اور بالآخر يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَّهُمْ صَاغِرُونَ (التوبة:۲۹) کے مصداق ہو کر رہنا پڑتا ہے۔پھر اس سے ایک اور گندہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب ملائکہ بھی نہیں آتے تو ہمیں بھی الہام نہیں ہوتا کشف نہیں ہوتا۔اور یہ دوکاندار بھی نہ سہی مگر یہ بھی تو دیکھیں کہ کیا ہمارے پیشوایان مذہب نے اس