خطبات نور — Page 88
88 رکھو وَإِنْ عَاقَبْتُمْ (النحل :۱۳۷)۔عقاب کے معنے جو پیچھے آتا ہے۔انسان جو بلاوجہ دوسرے کو بدنام کرتا ہے اور سوء ظن سے کام لے کر اس کی تحقیر کرتا ہے اگر وہ شخص اس بدی میں مبتلا نہیں جس بدی کا سوء ظن والے نے اسے مسم ٹھرایا ہے تو یہ یقینی بات ہے کہ سوء ظن کرنے والا ہر گز نہیں مرے گا جب تک خود اس بدی میں گرفتار نہ ہولے۔پھر بتاؤ کہ سوء ظن سے کوئی کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔مت سمجھو کہ نمازیں پڑھتے ہو۔عجیب عجیب خوابیں تم کو آتی ہیں یا تمہیں الہام ہوتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر یہ سوء ظن کا مرض تمہارے ساتھ ہے تو یہ آیات تم پر حجت ہو کر تمہارے ابتلا کا موجب ہیں۔اس لئے ہر وقت ڈرتے رہو اور اپنے اندر کا محاسبہ کر کے استغفار اور حفاظت الہی طلب کرو۔میں پھر کہتا ہوں کہ آیات اللہ جن کے باعث کسی کو رفعت شان کا مرتبہ عطا ہوتا ہے، ان پر تمہیں اطلاع نہیں وہ الگ رتبہ رکھتی ہیں۔مگر وہ چیزیں جن سے خود رائی خود پسندی، خود غرضی، تحقیر، بد ظنی اور خطرناک بدظنی پیدا ہوتی ہے وہ انسان کو ہلاک کرنے والی ہیں۔ایک ایسے انسان کا قصہ قرآن میں ہے جس نے آیات اللہ دیکھے مگر اس کی نسبت ارشاد ہوتا ہے۔وَلَوْشِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: ۱۷۷)۔اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ (بخاری کتاب الوصاب) بدگمانیوں سے اپنے آپ کو بچاؤ ورنہ نہایت ہی خطرناک جھوٹ میں مبتلا ہو کر قرب الہی سے محروم ہو جاؤ گے۔یاد رکھو حسن ظن والے کو کبھی نقصان نہیں پہنچتا۔مگر بد ظنی کرنے والا ہمیشہ خسارہ میں رہتا ہے۔غرض پہلا مرحلہ جو انبیاء علیہم السلام کے مخالفوں اور ان کی ذریت اور نوابوں کو پیش آیا وہ یہ تھا کہ اپنے آپ پر قیاس کیا۔پھر یہ بدظنی کی کہ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ تم پر فضیلت چاہتا ہے۔پس اس پہلی اینٹ پر جو ٹیڑھی رکھی جاتی ہے جو دیوار اس پر بنائی جاوے خواہ وہ کتنی ہی لمبی اور اونچی ہو کبھی مستقیم نہیں ہو سکتی اور وہ آخر گرے گی اور نیچے کے نقطہ پر پہنچے گی۔سوء ظن کرنے والا نہ صرف اپنی جان پر ظلم کرتا ہے بلکہ اس کا اثر اس کی اولاد پر اعقاب پر ہوتا ہے اور وہ ان پر مصیبت کے پہاڑ گراتا ہے جن کے نیچے ہمیشہ راستبازوں کے مخالفوں کا سر کچلا گیا ہے۔میں بار بار کہتا ہوں کہ یہ سوء ظن خطر ناک بلا ہے جو اپنے غلط قیاس سے شروع ہوتا ہے۔پھر غلط نتائج نکال کر قوانین کلیہ تجویز کرتا ہے اور اس پر غلط ثمرات مترتب ہوتے ہیں اور آخر قوم نوح علیہ السلام کی طرح ہلاک ہو جاتا ہے۔پھر اس سوء ظن سے تیسرا خیال اور غلط نتیجہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ لَوْ شَاءَ اللَّهُ لَانْزَلَ مَلَئِكَةً (المومنون:۲۵) اگر اس کو قرب الہی حاصل تھا، اگر یہ واقعی خدا کی طرف سے آیا تھا تو پھر کیوں خدا نے ملائکہ کو نہ بھیج دیا جو