خطبات نور — Page 87
87 يه كما مَا هَذَا إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کہ یہ شخص جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہونے کا مدعی ہے کہتا ہے کہ تمہیں ظلمت سے نکالنے کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔اس میں کوئی انوکھی اور نرالی بات تو ہے نہیں ہمارے تمہارے جیسا آدمی ہی تو ہے۔پس یاد رکھو سب سے پہلا اعتراض جو کسی مامور من الله راستباز صادق انبیاء و رسل اور ان کے کے جانشین خلفاء پر کیا جاتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو حقیر سمجھا جاتا ہے اور اپنی ہی ذات پر اس کو قیاس کر لیا جاتا ہے۔ایک طرف وہ اس کے بلند اور عظیم الشان دعاوی کو سنتے ہیں کہ وہ کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے آیا ہوں۔خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے۔اس کے ملائکہ مجھ پر اترتے ہیں۔دوسری طرف وہ دیکھتے ہیں کہ وہی ہاتھ ، پاؤں، ناک، کان، آنکھ ، اعضاء رکھتا ہے۔بشری حوائج اور ضرورتوں کا اسی طرح محتاج ہے جس طرح ہم ہیں اس لئے وہ اپنے ابنائے جنس میں بیٹھ کر یہی کہتے ہیں۔يَأْكُلُ مِمَّا تَأكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ (المومنون (۳۴)۔پس اپنے جیسے انسان کی اطاعت و فرمانبرداری کر کے خسارہ اٹھاؤ گے۔غرض اس قسم کے الفاظ اور قیاسات سے وہ مامور من اللہ کی تحقیر کرتے ہیں اور جو کچھ اپنے اندر رکھتے ہیں وہی کہتے ہیں۔مگر انبیاء مرسل امور اور اصحاب شریعت کے بچے خلفاء اور جانشین انہیں کیا جواب دیتے ہیں۔اِنْ نَّحْنُ إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (ابراهیم:(۳) اور کہتے ہیں۔وَلَكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ (ابراهیم:) بیشک ہم تمہاری طرح بشر ہیں۔تمہاری طرح کھاتے پیتے اور حوائج بشری کے محتاج ہیں۔مگر یہ خدا کا احسان ہوا ہے کہ اس نے ہمیں اپنے مکالمات کا شرف بخشا ہے۔اس نے ہمیں منتخب کیا ہے اور ہم میں ایک جذب مغناطیس رکھا ہے جس سے دوسرے کچے چلے آتے ہیں۔خدا کی توحید کا پانی جو مایہ حیات ابدی ہے وہ ہمارے ہاں سے ملتا ہے اور لوگ خوش ہوتے ہیں۔مگر بد کار انسان جس طرح اپنی بدیوں ، جہالتوں شہوات و جذبات کا اسیر و پابند ہو تا ہے دوسروں کو بھی اسی پر قیاس کرتا ہے اور ایک نامرادی پر دوسری نامرادی لاتا ہے۔اور کہتے ہیں کہ يُرِيْدُ انْ يَتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ (المومنون:۲۵) یہ چاہتے ہیں کہ تم پر فضلیت حاصل کر لیں۔دکان چل جاوے۔اپنے اور اپنی اولاد کے لئے کچھ جمع کر لیں۔یہ ان کی اپنی ہی ہوائے نفس ہوتی ہے جس میں دوسروں کو اسی طرح ملوث اور ناپاک خیال کرتے ہیں جیسے خود ہوتے ہیں۔یہ خطرناک مرض ہے جس کو شریعت میں سوء ظن کہتے ہیں۔بہت سے لوگ اس میں مبتلا ہیں اور ہزاروں قسم کی نکتہ چینیوں سے دوسروں کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں اور اسے حقیر بنانے کی فکر میں ہیں۔مگر یاد