خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 79 of 703

خطبات نور — Page 79

79 دشمنی ، غرض ہر رنج و راحت ہر حرکت و سکون میں کس پر عمل در آمد کرتے ہیں۔کیا فرمانبرداری کی راہ ہے یا نفس پرستی کی؟ عام مسلمانوں اور عام غیر مذ ہب کے لوگوں کو دیکھو کہ اگر وہ جھوٹ بولتے ہیں تو کیا مسلمان ہو کر ایک مسلمان جھوٹ سے محفوظ ہے؟ غیر مذہب والے اگر نفس پرستیاں اور شہوت پرستیاں کرتے ہیں تو کیا مسلمانوں میں ایسے کام نہیں کرتے؟ اگر ان میں باہم تباغض اور تحاسد ہے تو کیا ہم میں نہیں ؟ اگر ان حالات میں ہم ان ہی کے مشابہ ہیں اور کوئی فرق اور امتیاز ہم میں اور ان میں نہیں ہے تو بڑی خطرناک بات ہے، فکر کرو۔إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد:) یاد رکھو خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ قانون یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیضان میں تبدیلی اسی وقت ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے جب انسان خود اپنے اندر تبدیلی کرے۔اگر ہم وہی ہیں جو سال گذشتہ اور پیوستہ میں تھے تو پھر انعامات بھی وہی ہوں گے لیکن اگر چاہتے ہو کہ ہم پر نئے نئے انعامات ہوں تو نئے نئے طریق پر تبدیلی کرو۔خدا کی کتاب نے تصریح کردی ہے کہ کفر کیا ہوتا ہے کیونکر پیدا ہوتا ہے اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ایمان کیا ہوتا ہے۔اس کے نشان اور انجام کیا ہیں ؟ منافق اور مفتری کے انجام اور نشان کو بتا دیا ہے۔پھر امام اور راستباز کی شناخت میں کیا وقت ہو سکتی ہے۔آدم سے لے کر اس وقت تک ہزاروں ہزار مامور آئے ہیں۔سب کے واقعات ایک ہی طرز اور رنگ کے ہیں۔اگر تم اپنے آپ کو تکبر سے محفوظ کر لو تو شیطانی عمل دخل سے پاک ہو کر خدا کے فیضان کولے سکو گے۔غرض حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود بھی خدا تعالیٰ کی اطاعت کی اور انہی باتوں کی وصیت اپنی اولاد کو بھی کی اور یعقوب نے بھی یہی وصیت کی کہ اے میری اولاد! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک عجیب دین کو پسند کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر وقت فرمانبرداری میں گزارو۔چونکہ موت کا کوئی وقت معلوم نہیں ہے اس لئے ہر وقت فرمانبردار رہو تاکہ ایسی حالت میں موت آوے کہ تم فرمانبردار ہو۔میری تحقیقات میں یہی بات آئی ہے کہ بچی تبدیلی کر کے اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کرے۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے کہ وہ ایک پاک تبدیلی کریں۔آمین ا حکم جلد ۵ نمبر ۱۹--- ۲۴/ مئی ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۰-۱۱)