خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 78 of 703

خطبات نور — Page 78

78 ہے۔فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ النساء:1) یعنی اگر تم میں کسی امر کی نسبت تنازع ہو تو اس کا آخری فیصلہ اللہ اور اس کے رسول کی اتباع سے کر لو۔یہی ایک سیدھی راہ ہے۔مگر یہ یاد رکھو کہ اہل حق کے انکار کا مدار تمیز پر ہوتا ہے اس لئے اس سے دور رہو۔ورنہ کیسی تعجب کی بات ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ فرماتے ہیں کہ مَا كُنتُ بِدُعَا مِنَ الرُّسُلِ (الاحقاف:) میں کوئی نیا رسول تو نہیں آیا۔آدم سے لے کر اب تک جو رسول آئے ہیں ان کو پہچانو۔ان کی معاشرت، تمدن اور سیاست کیسی تھی اور ان کا انجام کیا ہوا ان کی صداقت کے کیا اسباب تھے ، ان کی تعلیم کیا تھی، ان کے اصحاب نے ان کو پہلے پہل کس طرح مانا ان کے مخالفوں اور منکروں کا چال چلن کیسا تھا اور ان کا انجام کیا ہوا؟ یہ ایک ایسا اصل تھا کہ اگر اس وقت کے لوگ اس معیار پر غور کرتے تو ان کو ذرا سی دقت پیش نہ آتی اور ایک مجدد مہدی، مسیح، مرسل من اللہ کے ماننے میں ذرا بھی اشکال نہ ہو تا۔مگر اپنے خیالات ملکی اور قومی رسوم بزرگوں کے عادات کے ماننے میں تو بہت بڑی وسعت سے کام لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماموروں اور اس کے احکام کے لئے خدا کے علم اور حکمت کے پیمانہ کو اپنی ہی چھوٹی سی کھوپڑی سے ناپنا چاہتے ہیں۔ہر ایک امام کی شناخت کے لئے یہ عام قاعدہ کافی ہے کہ کیا یہ کوئی نئی بات لے کر آیا ہے؟ اگر اس پر غور کرے تو تعجب کی بات نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ اصل حقیقت کو اس پر کھول دے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ اپنے آپ کو بیچ سمجھے اور تکبر نہ کرے ورنہ تکبر کا انجام یہی ہے کہ محروم رہے۔پس انسان خدا کے غضب سے بچنے کے لئے ہر وقت دعا کرتا رہے۔وہ دعا جس کے پڑھنے کے بغیر نماز نہیں ہوتی یہ ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة) یعنی ہم کو صراط مستقیم دکھا جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہوا۔ان لوگوں کی راہ سے بچا جن پر تیرا غضب ہوا اور جو حق سے بیجا عداوت کرنے والے ہیں اور نہ ان لوگوں کی راہ جو گمراہ ہو گئے ہیں۔مُنْعَمْ عَلَيْهِ گروہ کی شناخت کے لئے ایک آسان اور سہل راہ ہے۔انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات احکام اور عملدرآمد اور ان کی زندگی کو ان کے ثبوتوں اور آخر انجام کو دیکھو۔پھر ان کے حالات پر نظر کرو جنھوں نے مخالفت کی۔غرض مامور من اللہ لوگوں کا گروہ ایک نمونہ ہوتا ہے۔اس خواہش کے پورا کرنے کے قواعد بتانے کے لئے جو ہر انسان میں بطور حجت رکھی گئی ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ معزز ہو۔خدا تعالیٰ کے حضور معزز وہی ہو سکتا ہے جو رب العالمین کا فرمانبردار ہو۔یہ ایک دائگی سنت ہے جس میں تخلف نہیں ہو سکتا۔اب ہم لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ ہم غور کر کے دیکھیں کہ ہم لباس عادات عداوت دوستی