خطبات نور — Page 77
77 ابراہیم علیہ السلام۔اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو کیسی عزت دی، یہ اس نظارہ سے معلوم ہو سکتا ہے جو خدا نے فرمایا وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَهُ فِي الدُّنْيَا وَ إِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّلِحِينَ (البقرة:(۳) ہم نے اس کو برگزیدہ کیا دنیا میں اور آخرت میں بھی سنوار والوں سے ہو گا۔اللہ تعالیٰ کے مکالمات کا شرف رکھنے والے شریعت کے لانے والے ہادی و رہبر بادشاہ اور اس قسم کے عظیم الشان لوگ ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہوئے۔یہ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کے لئے نتیجہ دکھایا ہے۔حضرت موسی ، حضرت داؤد ، حضرت مسیح علیہ السلام سب حضرت ابراہیم کی نسل سے تھے اور حضرت اسماعیل اور ہمارے سید و مولی ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی اولاد سے ہیں۔ایک اور جگہ یہ بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ابراہیم اور اس کی اولاد کو بہت بڑا ملک دیا۔مگر غور طلب امر یہ ہے کہ جڑ اس بات کی کیا ہے؟ کیا معنی۔وہ کیا بات ہے جس سے وہ انسان اللہ تعالیٰ کے حضور برگزیدہ ہوا اور معزز ٹھہرایا گیا؟ قرآن کریم میں اس بات کا ذکر ہوا ہے جہاں فرمایا ہے۔اِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (البقرة :۱۳۲) جب ابراہیم کے رب نے اس کو حکم دیا کہ تو فرمانبردار بن جا تو حضرت ابراہیم عرض کرتے ہیں میں رب العالمین کا فرمانبردار ہو چکا۔کوئی حکم نہیں پوچھا کہ کس کا حکم فرماتے ہو۔کسی قسم کا بہل نہیں کیا۔فرمانبرداری کے حکم کے ساتھ ہی معابول اٹھے کہ فرمانبردار ہو گیا۔ذرا بھی مضائقہ نہیں کیا اور نہیں خیال کیا کہ عزت پر یا مال پر صدمہ اٹھانا پڑے گایا احباب کی تکالیف دیکھنی پڑیں گی۔کچھ بھی نہ پوچھا۔فرمانبرداری کے حکم کے ساتھ اقرار کر لیا کہ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِینَ۔یہ ہے وہ اصل جو انسان کو خدا تعالیٰ کے حضور برگزیدہ اور معزز بنا دیتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا سچا فرمانبردار ہو جاوے۔فرماں برداری کا معیار کیا ہے ؟ ایک طرف انسان کے نفسانی جذبات کچھ چاہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے احکام کچھ۔اور اب دیکھیں کہ آیا خدا تعالیٰ کے احکام کو انسان مقدم کرتا ہے یا اپنے نفسانی اغراض کو۔ای طرح رسم و رواج عادات کسی کا دباؤ " حب جاہ رعایت قانون قومی ایک طرف کھینچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم ایک طرف۔اس وقت دیکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کی طرف جھکتا ہے یا اس پر دوسرے امور کو ترجیح دیتا ہے۔اب اگر اللہ تعالیٰ کے احکام کی قدر کرتا اور ان کو مقدم کر لیتا ہے تو یہی خدا کی فرمانبرداری ہے۔وہ لوگ جو اولوا الا مر کہلاتے ہیں اور جن کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے ان کے لئے بھی ارشاد الہی یوں