خطبات نور — Page 76
ار مئی ۱۹۰۱ء 76 خطبه جمعه (ایڈیٹر "الحلم" کے اپنے الفاظ میں) وَ مَنْ تَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ ابْرَاهِيمَ حَنِيفاً وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (البقرة کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا:۔ہر ایک سلیم الفطرت انسان کے قلب میں اللہ تعالٰی نے یہ ایک بات محبت کے طور پر رکھ دی ہے کہ وہ ایک مجمع کے درمیان معزز ہو جاوے۔گھر میں اپنے بزرگوں کی کوئی خلاف ورزی اس لئے نہیں کی جاتی کہ گھر میں ذلیل نہ ہوں۔ہر ایک دنیا دار کو دیکھتے ہیں کہ محلہ داری میں ایسے کام کرتا ہے جن سے وہ با وقعت انسان سمجھا جاوے۔شہروں کے رہنے والے بھی ہتک اور ذلت نہیں چاہتے۔پھر اس مجمع میں جہاں اولین و آخرین جمع ہوں گے اس مقام پر جہاں انبیاء و اولیاء موجود ہوں گے وہاں کی ذلت کون عاقبت اندیش سلیم الفطرت گوارا کر سکتا ہے؟ کیونکہ عزت و وقعت کی ایک خواہش ہے جو انسان کی فطرت میں موجود ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایک نظیر کے ساتھ اس خواہش اور اس قاعدہ لو جس کے ذریعہ انسان معزز ہو سکتا ہے بیان کرتا ہے۔نظیر کے طور پر جس شخص کا ذکر یہاں کیا گیا ہے اس کا نام ہے