خطبات نور — Page 67
67 بھی خدا تعالی کے انعامات میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ فرمایا ہے جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاءَ وَ جَعَلَكُمْ مُلُوكًا (المائدة:) یعنی اے میری قوم! خدا نے تجھ میں انبیاء کو مبعوث فرمایا اور تجھ کو بادشاہ بنایا۔جب قوم کی سلطنت ہوتی ہے تو قوم کے ہر فرد میں حکومت کا ایک رنگ آجاتا ہے۔ہاں ہمیں تو وہ وقت یاد نہیں جب ہم بادشاہ تھے۔اچھا تو قوم کی سلطنت تو اب ہے نہیں اور خدا کا شکر بھی ہے کہ نہیں ہے۔کیونکہ اگر ہوتی تو موجودہ نا اتفاقیاں یہ لاچاریاں ، یہ بے کسی اور بے بسی ، خود نمائی اور خود بینی ہوتی۔ضروریات زمانہ کی اطلاع نہ ہوتی تو کس قدر مشکلات کا سامنا ہوتا اور کیسے دکھوں میں پڑتے۔بیرونی حملہ آور اندرونی بغاوتوں کو دیکھ کر حملہ آور ہوتے اور ہلاک کر دیتے۔تو یہ خدا کا رحم ہے جو اس نے سلطنت لے کر دوسروں کے حوالے کی اور ہم کو اس دکھ سے بچا لیا جو اس وقت موجودہ حالت کے ہوتے ہوئے ہمیں پہنچتا۔اس کے ماوراء وہ مقدس چیز جس کا نام مذہب ہے اور جو ایسا صاف اور مدلل اور معقول تھا کہ فطرت انسانی اسے اپنا مایحتاج قرار دیتی تھی، اس کا یہ حال ہے کہ اس کے عقائد کو اصول ہوں یا فروع ایسا بنا دیا گیا ہے کہ وہ پہیلیوں اور چیستانوں میں ڈال رکھا ہے۔وہ ایک ایسا معمہ کر دیا گیا ہے کہ حل ہی ہونے میں نہیں آتا۔اس کا اثر اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لوگ جو ایک ناتواں انسان کے بچہ کو جو گنے اور موتنے کا محتاج تھا خدا بنا رہے ہیں اور اپنے گناہوں کی گٹھڑی دوسرے پر ڈال کر جو کچھ کریں سو تھوڑا ہے، ان کو بھی جرات اور دلیری ہو گئی کہ وہ اس باطل کی اشاعت میں پورے مستعد اور تیار ہو کر نکلے ہیں اور کروڑوں کتابوں اخباروں، رسالوں سے کام لے رہے ہیں۔کہیں ہسپتالوں کی شکل میں، کہیں مشن سکولوں کے رنگ میں ، غرض کہیں کسی بھیس میں کہیں کسی لباس میں انسان کی خدائی منوانے اور اس کو منجی" قرار دینے میں زور لگا رہے ہیں۔ہمارے لئے یہ امر بھی کوئی رنجیدہ نہ ہو تا اگر ان کی کوششوں کی انتھا اپنے ہی مذہب کی اشاعت ہوتی۔مگر اس پر آفت یہ برپا کی ہے کہ اپنے مذہب کی اشاعت کا طرز اور رنگ انہوں نے یہ اختیار کر لیا کہ مقدس اسلام پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر وہ دل آزار حملے کرنے شروع کیے ہیں جن کی کوئی انتہا نہیں۔تعجب اور حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ محض خیالی باتیں دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب پر حملے کرتے ہیں۔فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ (البقرة:-