خطبات نور — Page 64
64 کر دکھانے والا اور اپنی کامیابی سے اس پر مہر کر دینے والا کہ یہی صراط مستقیم ہے جس پر میں چلتا ہوں۔اب انسان اگر دانشمند اور سلیم الفطرت ہو تو اس کو صفائی کے ساتھ مسئلہ نبوت کی ضرورت کی سمجھ میں آجاتی ہے۔میں نے ایک بار اس آیت پر تدبر کیا تو مجھے خیال آیا کہ اگر مولویوں کی طرح کہیں تو کیا عرب گونگے تھے ؟ سبعہ معلقہ اور امرء القیس کا قصیدہ دیکھو جو بیت اللہ کے دروازہ پر آویزاں کیا گیا تھا۔زید بن عمرو اور اس کے ہم عصر اعلیٰ درجہ کے خطیب موجود تھے۔ان لوگوں میں جب کبھی اس بات پر منازعت ہوتی تھی بڑے دنگل لگتے تھے۔جس کی بات کو مکہ کے قریش پسند کرتے وہ جیت جاتا۔ان کی زبان عربی تھی۔وہ دوسروں کو عجم کہتے تھے۔اپنے آپ کو فصاحت میں بے نظیر سمجھتے تھے۔پھر اس پر کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ابکم ہے ؟ اپنی معشوقہ اور عشیقہ کے خد و خال بہادری اور شجاعت کے کارنامے چستی و چالاکی کے ، غرض ہر قسم کے مضمون پر بڑی فصاحت سے گفتگو کر سکتے تھے اور اپنے تحمل مزاج کے ثبوت دیتے تھے مگر ہاں وہ "ایکم " تھے تو اس بات میں تھے کہ اللہ تعالیٰ کے محلد اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا انہیں کچھ علم نہ تھا اور وہ اس کی بابت ایک لفظ بھی منہ سے نہ بول سکتے تھے۔اللہ تعالیٰ کے افعال کی بینظیری کو بیان کرنے کی مقدرت ان میں نہ تھی۔وہ عرب کہلاتے تھے مگر لَا إِلَهَ إِلَّا الله جیسا اعلیٰ درجہ کا فصیح و بلیغ کلمہ ان میں نہ تھا۔وحشیوں سے انسان اور انسانوں سے بااخلاق انسان پھر باخدا انسان بننے کے لئے اور ان مراتب کے بیان کرنے کو آہ! ان میں ایک لفظ بھی نہ تھا۔اخلاق فاضلہ اور رذائل کو وہ بیان نہ کر سکتے تھے۔شراب کا تو ہزار نام ان میں موجود تھا مگر افسوس! اور پھر افسوس !! اگر کوئی لفظ اور نام نہ تھا تو اللہ تعالیٰ کے اسماء اور توحید کے اظہار کے واسطے۔پھر یوں سمجھو کہ ان میں لَا إِلَهَ إِلَّا الله نہ تھا۔وہ اپنی سطوت اور جبروت دکھاتے۔ایک پہلے (کتی کے بچے) کے مرجانے پر خون کی ندیاں بہا دینے والے اور قبیلوں کی صفائی کر دینے والے تھے مگر اللہ تعالیٰ کا بول بالا کرنے کے واسطے ان میں اس وقت تک سکت نہ تھی یہاں تک کہ پاک روح مطهر و مز کی معلم جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں ظہور فرمایا۔یہ وہ وقت تھا جب کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم:۳۲) کا نقشہ پورے طور پر کھینچا گیا تھا۔سماوی مذاہب جو کہلاتے تھے اور خدا تعالیٰ کی کتابوں کے پڑھنے کے دعوے کرتے تھے باوجود اس کے کہ اپنے آپ کو مقربان بارگاہ الہی کہتے نَحْنُ ابْنَاءُ اللهِ وَاحِبَاوِة (المائدة:9) مگر مالت یہاں تک خراب ہو چکی تھی کہ عظمت اٹھی اور شفقت علی خلق اللہ کا نام و نشان تک نہ پایا جاتا تھا۔اور دنیوی ڈھکوسلے والوں