خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 63 of 703

خطبات نور — Page 63

63 اللہ تعالیٰ کی اصطلاح میں رزق اور مال سے کیا مراد ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ جیسے اس زمانہ میں مولوی اور درویش کاہل اور سست اور ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی ان کو پکی پکائی روٹی دے جاوے، اسی طرح جب مہدی موعود علیہ الصلوۃ و السلام آئیں گے تو لا تعداد ز رومال تقسیم کریں گے اور اس طرح پر گویا قوم کو سست اور بے دست و پا بنائیں گے۔اور قرآن کریم نے جو یہ اشارہ فرمایا تھا وَ اَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم:۳۰) اور حصر کے کلمہ کے ساتھ فرمایا تھا اس کو عملی طور پر منسوخ کر دیں گے۔اس میں جو حصر کے کلمے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کیا یہ حکم منسوخ ہو جاوے گا اور جناب مہدی کا یہی کام ہو گا؟ سوچو اور غور کرو۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ رزق کے کیا معنے ہیں۔اس کے بعد جناب الہی ایک دوسری شہادت سناتے ہیں اور اس مثال میں آبگم کا لفظ اختیار فرمایا ہے۔پہلے ایکم نہ تھا اس لئے کہ ہم کو غرض ہے کسی ایسے آدمی کی جو پیغام رسانی کر سکے۔لیکن جب کہ وہ آبگم ہے کچھ بول ہی نہیں سکتا، بھلا وہ اس منصب کے فرائض کو کیوں کر سرانجام دے گا؟ غلام مت سمجھو۔رجلین ہیں یعنی " حُر " ہیں۔آدم سے لے کر اس وقت تک ان پر کسی نے سلطنت نہیں کی اس لئے اس میں ترقی فرمائی ہے اس سے پہلے عبد کہا اب رجلین۔اس سے میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ حروں میں، عربوں میں تاریخ پتہ نہیں دیتی کہ وہ کبھی کسی کی رعایا ہوئے ہوں۔انہوں نے کبھی کسی کے تسلط اور جبروت کو پسند نہیں کیا اور یہاں تک آزاد ہیں کہ بذریعہ انتخاب بھی کل جزیرہ نما عرب پر ایک شخص حاکم ہو کر نہیں رہا۔اب انہی سے ہم پوچھتے ہیں کہ اس وقت جو بحر و بر میں فساد برپا ہو رہا ہے اور دنیا میں بت پرستی، فسق و فجور، ہر قسم کی شرارت اور بغاوت پھیل رہی ہے کوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گم شدہ توحید کو از سر نو زندہ کرے اور مری ہوئی دنیا کو زندہ کر کے دکھاوے؟ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت اس کے جلال وسطوت کو کھول کر سنا دے۔وہ جو ابکم الگن ہیں وہ کیا بتا سکیں گے۔کیا تم نہیں جانتے کہ ابکم نو کر تو اپنے آقا پر بھی دو بھر ہوتا ہے۔اس کو کھانا کھلانا اور ضروریات کے سامان کا تکفل کرنا خود مالک کو ایک بوجھ معلوم ہوتا ہے اور پھر جہاں جاتا ہے تو کوئی خیر کی خبر نہیں لا سکتا۔اب پھر تم اپنی فطرت سے پوچھو هَلْ يَسْتَوى هُوَ وَ مَنْ يَّامُرُ بِالْعَدْلِ وَ هُوَ عَلَى صِرَاطٍ - مُسْتَقِيمٍ (النحل ۷۷) کیا اس کے برابر یہ ہو سکتا ہے جو امر بالعدل کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے اپنی عملی حالت سے اس کو دکھاتا ہے کہ وہ صراط مستقیم پر ہے؟ اس وقت جو دنیا میں افراط و تفریط بڑھ گئی ہے۔دنیا کو اعتدال کی راہ بتانے والا اور اقرب راہ پر چل