خطبات نور — Page 58
58 ہیں جن سے سمجھا دیتا ہے۔وجدان ، فطرت، علمی دلائل، الہام، رؤیا، غرض جس طرح پر وہ چاہتا ہے سمجھا دیتا ہے۔تقویٰ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ متقی بامراد ہوتا ہے۔اس کو ایسی جگہ سے رزق ملتا ہے کہ اسے سمجھ میں بھی نہیں آتا۔اس کے دشمن ہلاک ہو جاتے ہیں۔الہی نصرت اس کو ملتی ہے۔خدا کی محبت کا انعام اس پر ہوتا ہے۔پھر دنیا میں کون انسان ہے جو کامیابی نصرت، محبت الہی دشمنوں کی ہلاکت نہیں چاہتا مگر اس کا انحصار اور مدار تو تقویٰ پر ہے۔تقویٰ اختیار کرو۔وَقَاتِلُوا فِي سَبِيْلِ اللهِ (البقرة (9) اللہ تعالیٰ کی راہ میں اعلائے کلمتہ اللہ میں اللہ کے بندوں کی عزت اور وقعت کے لئے دشمنان دین دشمنان قرآن کریم ، نبی کریم کے دشمنوں، آپ کے جانشینوں کے دشمنوں سے مقابلہ کرو مگر اس راہ سے جس راہ سے وہ مقابلہ کرتے ہیں۔وہ اگر تلوار اور تیر سے کام لیں تو تم بھی تلوار اور تیر سے کام لو۔لیکن اگر وہ تدابیر سے کام لیتے ہیں تو تم بھی تدابیر ہی سے مقابلہ کرو۔ورنہ اگر اس راہ سے مقابلہ نہیں کرتے تو یہ اعتدا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اعتدا کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔غرض جو راہ دشمن اختیار کرے اسی قسم کی راہ اختیار کرو۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ انسان کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اس راہ اور سبب کو اختیار نہیں کرتا جو اس کے حصول کے واسطے مقرر ہے۔کامیابی کے صحیح اور یقینی اسباب اور ذرائع معلوم نہیں ہو سکتے جب تک سچا علم نہ ہو اور سچا علم بدوں قرآن کے نہیں آسکتا اور قرآن بدوں تقویٰ کے حاصل نہیں ہوتا اور سچا تقویٰ اور خشیت الہی پیدا نہیں ہوتی جب تک اللہ تعالیٰ کے منتخب فرمائے ہوئے بندوں کی صحبت میں نہ رہے اور مامور اور منتخب کی شناخت کا اصول یہ ہے کہ جو اس سے پہلے آئے ہیں ان کے کاموں اور حالات سے اس کو پہچانو۔غرض آج کا دن نبوی تاریخ کا پہلا دن ہے اور تقویٰ کی تیاری رمضان کے مہینہ سے شروع کی ہے۔اس لئے واجب ہے کہ سال آیندہ کے لئے اب ہی سے تیاری کریں۔پھر رمضان شریف کے احکام و فضائل کو لَا تَأكُلُوا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (البقرة:۱۸۸) پر ختم کیا ہے۔باطل طریق سے اموال کا لینا بہت خطرناک بات ہے۔پس ہر ایک اپنے اپنے اندر سوچو اور غور کرو کہ کہیں بطلان کی راہ سے تو مال نہیں آتا۔اپنے فرائض منصبی کو پورا کرو۔ان میں کسی قسم کی سہستی اور غفلت نہ کرو۔لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ۔(بخاری کتاب الایمان)۔اپنی طاقتوں اور عمر کے ایام کو غنیمت سمجھو۔ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کو کسی طرح بھی ناراض کرو اور