خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 635 of 703

خطبات نور — Page 635

635 انگریز بھی ان میں تھا اس نے اس رئیس کو کہا کہ واہ آپ کا گھوڑا سؤر سے ڈر گیا۔تو اس رئیس نے کہا کہ آپ نے دیکھا نہیں میں جھکا تھا۔میں نے دیکھا کہ وہ سور کی مادہ سورنی تھی۔ہم سپاہی مادہ کو نہیں مارا کرتے۔تو اس انگریز نے دوسرے انگریزوں کو کہا۔شکر ہے ہم نے اس کو نہیں مارا اور نہ ہماری تو بد نامی ہوتی۔اس آیت میں جس نفس کا ذکر ہے، وہ عورت ہے۔مرد کو اگر مارتے تو کچھ حرج نہ تھا۔تحقیقات کرنے پر انہوں نے اس کو ایک دوسرے پر تھوپا۔آخر نبی کریم میں تمیمی نے مدینے کے سارے بد معاشوں کو جمع کیا اور اس عورت کے آگے سب کو پیش کیا۔وہ بول تو نہ سکتی تھی مگر قوت ممیزہ اس میں تھی۔جب قاتل کو اس کے سامنے لایا گیا تو اس نے سر سے اشارہ کیا کہ یہی ہے۔اس کو نبی کریم میں ہیر نے کئی بیچوں سے اس عورت پر پیش کیا مگر وہ اس کو پہچان لیتی۔اس کا ذکر بخاری شریف میں ہے۔اس بد معاش نے اس عورت کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا تھا۔کچھ زیور کے لالچ سے۔وَاللهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ (البقرۃ:۷۳) اللہ اس بات کو نکالنے والا تھا۔آخر وہ بات نکل آئی۔فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ ببعضها (البقرة: تب ہم نے اس قاتل کو مارنے کا حکم دیا۔اور یہ اس کے بعض کا بدلہ تھا۔اس نے پہلے بھی کئی بد معاشیاں کیں اور آگے بھی وہ کرتا۔اس لئے یہ سزا اس کے بعض کی ہے۔اور جگہ فرمایا۔وَلَكُمْ فِى الْقِصَاصِ حَيُوةٌ (البقرة :۱۸۰) بدلہ لینے میں تمہارے لئے حیات ہے۔یحیی کا لفظ رکھا ہے۔یہ ان کی بے حیائی ہے کہ عورت کو مارا۔عورت کو مارنا کوئی بہادری نہیں۔میں اس آیت کو سنا کر افسوس کرتا ہوں۔مسلمانوں کو بتلایا تھا کہ تم ایسا کام نہ کرنا۔مگر تم صدہا قتل کرتے ہو۔ڈرتے نہیں۔ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ (البقرة :۷۵) تمہارے دل سخت ہو گئے۔بعض پتھروں سے نہریں چلتی ہیں اور ان سے نفع پہنچتا ہے۔مگر تم تو ان پتھروں سے بھی بد تر ہو۔تم جس قدر ہو تم میں سے ندیاں اور نہریں جاری ہوتیں۔اور کچھ نہیں تو پانی نکلتا۔میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔میں نے تمہیں سمندر کے سمندر سنائے مگر تم بھی بہادر ہو۔بعض ہیں کہ ان کے کانوں پر جوں رینگتی ہی نہیں۔قَسَتْ قُلُوبُكُمْ - خدا ساری قوم کو برا نہیں کہتا۔بعض نیک بھی تو ہوتے ہیں جو إِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ (البقرة:۷۵) کے مصداق ہوتے ہیں۔مِنْهَا میں جو ضمیر ہے اس میں اختلاف ہے۔بعض پتھروں کی طرف پھیرتے ہیں، بعض قلوب کی طرف۔جیسے موسیٰ کے بارے میں فرمایا۔آنِ اقْذِ فِيْهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِ فِيهِ فِي الْيَم (٣٠) موسیٰ کو صندوق میں ڈال دو اور صندوق کو دریا میں ڈال دو یا موسیٰ کو دریا