خطبات نور — Page 629
629 مثلاً جیسے گاؤ کا ذبح کرنا برا جائیں ایسا بکرے اور مرغ کو ذبح کرنا۔موسی اتنا بڑا اولوالعزم نبی تھا۔کتنے نشان دکھلائے۔فرعون کی غلامی سے بچایا۔ید بیضاء عصاء جراد وباء، قمل، طوفان، وغیرہ وغیرہ دکھائے۔فرعون غرق ہوا۔اسی دریا سے بنی اسرائیل بیچ کر نکل آئے۔ان کے دل میں کوئی ادب معلوم نہیں ہوتا اور کہنے لگے کہ کیا آپ ہنسی کرتے ہیں؟ کہا اعوذ باللہ۔یہ تو جاہلوں کا کام ہے۔ہماری سرکار نے فرمایا ، صلی اللہ علیہ وسلم کہ میں تم سے بڑا عالم اور متقی ٹھٹھا یا محول کرنا عالم کا کام نہیں۔مجھے یاد نہیں کہ کبھی درس میں یا طب میں ٹھٹھا کیا ہو۔وہ بد معاش خوب سمجھتے تھے کہ سیدنا موسیٰ کی کیا غرض تھی مگر رسم کے خلاف کرنا بھی مشکل تھا۔اس لئے خوئے بد را بہانہ ہا بسیار" کہتے ہیں کہ اُدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا هِيَ (البقرة)۔یہ تمسخر ہے۔جو اب ملا۔گائے ہے۔نہ بچھیا ہے اور نہ بڑھیا ہے اور جوان ہے۔جو حکم ہوا ہے اس کی تعمیل کرو۔شریر پابند رسوم و عادات بھلا کیسے جلد سیدھا ہو۔لگے پوچھنے کہ اس کا رنگ کیسا ہو؟ علاج تو یہ تھا کہ دو جوت لگا دیتے۔مگر انبیاء رحیم کریم ہوتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ زرد رنگ اور شوخ ڈیڈھا رنگ ہے یعنی گوڑھا، گورا۔خوش کرتی ہے دیکھنے والوں کو۔کیا معنے ؟ درشنی گاؤ ہے۔ہندو ایسی عمدہ گھروں میں رکھتے ہیں اور ان کو گندھا آٹا کھلاتے ہیں۔اب یہ بد بختی پیچھا نہیں چھوڑتی۔کہتے ہیں کہ حضور گائیں بہت ہیں۔گوریاں بھی ہیں۔ذرا تفصیل سے پوچھو ہم کو تو شبہ پڑ گیا ہے۔پھر تاڑ گئے کہ یہ شرک کو تو پسند نہ کرے گا۔اور فرمایا کہ وہ ذلیل نہیں ہے۔وہ تو کھا کھا اتنی موٹی ہوئی ہے کہ وہ زمین پر کھر مارتی ہے۔کبھی کھیتی میں نہیں لگائی گئی۔اس میں کلا کوئی نہیں اور نہ داغ ہے۔مجبور ہو گئے۔آخر ذبح کرنی پڑی۔آخر انبیاء علیہ السلام کے حضور کیا پیش جاتی۔ایک اور بات سناتا ہوں کہ جب انسان کسی جگہ کو آگ لگاتا ہے تو پہلے دیا سلائی کو جلاتا ہے۔پھر چیتھڑے اور کاغذ وغیرہ کو آگ لگاتا ہے۔ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ بڑے بڑے کھنڈ تباہ کر دیں۔اسی طرح قومی افساد کے لئے بعض لوگ ایک امر کو دینی اور مذہبی امر تجویز کر کے اس سے افساد شروع کرتے ہیں اور شاید ان کی اتنی عقل ہوتی ہے یا یہ ان کی بد عادت ہے۔اس کو پورا کرنے کو ایک ایمانی امر تجویز کرتے ہیں۔اس لئے میں اول اپنا ایمان ظاہر کرتا ہوں۔ہمارے ایمان میں جو کچھ ہے یہ ہے کہ لَا إِله إِلا اللہ اور گواہ رہیں۔قیامت کے دن پوچھے جاؤ گے کہ کوئی معبود برحق محبوب، مطلوب حقیقی جس کے آگے کامل اطاعت کریں، تذلل اختیار کریں اللہ ہے۔اس کے مقابل میں کوئی نہیں۔رب رحمن رحیم ، مالک یوم الدین اس کی صفتیں ہیں۔لاکھوں فرشتے اس نے بنائے ہیں۔یہ اس کے کارخانہ میں