خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 625 of 703

خطبات نور — Page 625

625 میرا کام سنانا ہے۔یہاں تین باتوں کا ذکر آیا ہے۔ایک تو یہ کہ اسلام کے بعد دوسروں کے ساتھ تعلقات کیسے ہوں؟ دوم ایمان کے بعد ہمارا عملدرآمد کیسا ہو؟ سوم یہ کہ اگر کہا نہ مانو گے تو حال کیا ہو گا؟ فرماتا ہے جو لوگ کسی قسم کے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں خواہ وہر یہ ہی ہوں، فرض پابند ہوں کسی چیز کے کسی اصل کے ، پھر وہ خواہ یہودی ہوں یا عیسائی ہوں یا صابی جو کوئی اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ان دو باتوں کا ذکر اس لئے کیا کہ ایمان کی جڑ اللہ پر ایمان ہے اور ایمان کا منتہی آخرت پر ایمان ہے۔اور جو آخرت پر ایمان لاتا ہے اس کا نشان بھی بتا دیا کہ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْأَخِرِةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَهُمُ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (الانعام:۹۳)۔وہ ایک تو تمام قرآن مجید پر ایمان لاتا ہے۔دوم اپنی صلوٰۃ کی محافظت کرتا ہے۔آج ہی ایک نوجوان سے میں نے پوچھا۔نماز پڑھتے ہو؟ اس نے کہا۔صبح کی نماز تو معاف کرو۔(بھلا میرا بادا معاف کرنے والا ہے) باقی پڑھتا ہوں۔یہ مومن کا طریق نہیں ہے۔ایک مقام بر فرمایا اَفَتُومِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ (البقرة:۸۴)۔پس تمام کتاب پر ایمان و عمل موجب نجات ہے۔اس آیت میں اللہ نے بتا دیا ہے کہ ایک ہندو ایک عیسائی ایک چوہڑا ایک چمار جب لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ پڑھ لیتا ہے اور یوم آخرت کا قائل ہو جاتا ہے تو وہ مسلمان بنتا ہے اور پھر تم سب ایک ہو جاتے ہو۔یہ اخوت اسلام کے سوا کسی مذہب میں نہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ شرفاء حکماء غرباء ایک صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔اس فرمانبرداری کا نتیجہ بھی بتا دیا کہ وہ لا خَوْفٌ وَّلَا يَحْزَنُ زندگی بسر کرتا ہے۔ایک پہاڑی پر جس کا نام حراء ہے ہماری سرکار ہے بھی اللہ نے کلام کیا۔ایسا ہی حضرت موسیٰ سے بھی ایک پہاڑ پر کلام ہوا جس کا نام طور ہے۔رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ (البقرۃ:۳) کے معنے ہیں کہ اس کے دامن میں سب قوم کو کھڑا کیا۔جیسے بولتے ہیں لاہور شہر راوی کے اوپر ہے۔ایسا ہی ہجرت کی ایک حدیث میں ہے۔فَرُفِعَ لَنَا الْجَبَلُ (جامع الصغیر) تو اس کے یہ معنے نہیں کہ مکہ پہاڑ اکھیڑ کر نبی کریم میر کے اوپر رکھ دیا گیا۔خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ (البقرة: ٣) جیسے بنی اسرائیل کو تورات محکم پکڑنے کا حکم تھا ایسا ہی ہمیں قرآن مجید کے بارے میں حکم ہے۔اگر مانو گے تو فائدہ ہو گا اور اگر نہ مانو گے تو گھاٹا ہی گھاٹا ہے۔عورتوں کا بڑا حصہ تو قرآن سنتا ہی نہیں۔امیر بھی بد بختی سے قرآن نہیں سن سکتے نہ باجماعت نماز پڑھ سکتے