خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 595 of 703

خطبات نور — Page 595

595 اور پھر اس پر عملدرآمد نہ ہو۔بہت سے لوگ ہیں جو اپنے اوپر خدا کے بہت سے فضلوں کا اقرار کرتے ہیں اور اپنے مقابل میں دوسروں کا ایمان حقیر سمجھتے ہیں مگر عمل میں کچے ہیں۔منہ سے بہت باتیں بناتے ہیں مگر عملد رآمد خاک بھی نہیں۔ایسے لوگوں کو نصیحت کی جائے تو کہتے ہیں ہم تو مانتے ہیں۔مگر اپنے شیاطین اپنے سرغنوں کے پاس جا کر کہتے ہیں کہ ہم تو ان مسلمانوں کو بناتے ہیں۔ان کو حقیر سمجھتے ہیں۔استہزا هزء سے نکلا ہے۔ہلکی چیز کو چونکہ آسانی سے ہلایا جاسکتا ہے اس لئے استہزاء تحقیر کو کہتے ہیں۔اللہ ان کو ہلاک کرے گا کسی کو جلد کسی کو دیر سے۔اللہ تو تو بہ کے لئے ڈھیل دیتا ہے مگر اکثر لوگ خدا کی حد بندیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔حد بندی سے جوش نفس کے وقت یوں نکل جاتے ہیں جیسے دریا کا پانی جوش میں آکر کناروں سے باہر نکل جائے۔ایسے لوگ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی لیتے ہیں۔یہ تجارت جس میں ہدایت چھوڑی اور گمراہی اختیار کی ان کے لئے نافع نہیں۔ان کے لئے پاک ہدایت ایسی ہے جیسے میں نے طب میں دیکھا ہے کہ بعض وقت نرم کھچڑی شدت صفرا کی وجہ سے نہایت تلخ معلوم ہوتی ہے۔یہ لوگ ہدایت کی باتوں کی قدر اور حقیقت سے بوجہ اپنے مرض قلبی کے آگاہ نہیں۔پس ایسے لوگ اگر ایمان کا اظہار بھی کرتے ہیں تو اپنے نفع کے لئے۔جیسے کوئی آدمی جنگل میں آگ جلائے تو اس سے یہ فائدہ اٹھا لیتا ہے کہ شیر، چیتے اور ایسے درندے اس کے پاس نہیں پھٹکنے پاتے۔اسی طرح منافق بظاہر اسلام کا اقرار کر کے مصائب سے عارضی طور پر بچاؤ کر لیتا ہے لیکن بعد میں بلائیں ، جفائیں اسے گھیر لیتی ہیں۔اس کا نفاق کھل جاتا ہے۔پھر کچھ سوجھ نہیں پڑتا۔غرض اپنا ظاہر کچھ باطن کچھ بنانے والے ضرور نقصان اٹھاتے ہیں۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ایک دوسرے پر ٹھٹھا نہ کرو۔بدظنی سے کام نہ لو۔مسلمانوں میں بد ظنی بڑھتی جاتی ہے۔واعظ بھی وعظ کرتا ہے تو کہتے ہیں باتیں بنا رہا ہے۔ایسے لوگوں میں سے نہ بنو۔یہ لوگ خطرناک راہ پر چل رہے ہیں۔بہرے ہیں، کان رکھتے نہیں کہ کسی رہنما کی آواز سنیں۔اندھے ہیں، آنکھیں رکھتے نہیں کہ خود نشیب و فراز دیکھ لیں۔گونگے ہیں، زبان رکھتے نہیں کہ کسی سے رستہ پوچھ لیں۔پس وہ کسی موذی چیز سے کیو کمر بچ سکتے ہیں؟ منافقوں کی مثال اس شخص کی مثال ہے جس پر مینہ برستا ہو گھٹاٹوپ اندھیرا چھا رہا ہو۔جب ذرا میکلی چمکی تو آگے بڑھے ورنہ وہیں کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔جب کوئی فائدہ پہنچا تو اسلام کے معتقد بنے رہے۔جب کوئی ابتلاء پیش آیا تو جھٹ انکار کر دیا۔ایسے لوگ بیوقوف ہیں۔جیسے بعض نادان بجلی کی