خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 587 of 703

خطبات نور — Page 587

۲۵ جولائی ۱۹۱۳ء 587' خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح نے سورۃ بقرہ کے پہلے رکوع کی تلاوت کی اور پھر فرمایا:۔ایک دفعہ میں لاہور میں تھا۔بڑی مدت کی بات ہے۔وہاں ٹھنڈی سڑک پر ہم تین آدمی جا رہے تھے۔ایک نے کہا۔قرآن میں تو لکھا ہے کہ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ (القمر) مگر قرآن تو بہت مشکل ہے۔میں نے کہا یہ بہت سچا کلمہ ہے۔قرآن کا دعویٰ ہے کہ جو کچھ بھی سچائیاں اور الہی صداقتیں، جن میں خدا تعالیٰ کی تعظیم اور مخلوق پر شفقت اور اس کے قوانین و اصول ہو سکتے ہیں، وہ سب قرآن میں موجود ہیں۔اگر یہ تمام صداقتیں دیگر آسمانی کتب سے خود جمع کرنی پڑتیں تو کس قدر مشکل بات تھی اور پھر مزید برآں یہ کہ مدلل و مفصل موجود ہیں۔چنانچہ دوسرے موقع پر فرماتا ہے۔لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ - رَسُولٌ مِّنَ اللهِ يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيْهَا كُتُبْ قَيِّمَةٌ (البينه: ۲ تام) ساری مضبوط تعلیمات اور ہدایات کی جامع کتاب حضرت قرآن ہے جس نے تمام اگلی صداقتوں کو بھی بہتر سے بہتر اور عمدہ سے عمدہ رنگ میں فرمایا ہے۔