خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 585 of 703

خطبات نور — Page 585

585 قابل ہوتا ہے۔اسی طرح انسانوں میں سے جو اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور انبیاء اور ان کی پاک تعلیم سے روگردانی کرتے ہیں وہ آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔ہر ایک انسان کو خدا تعالیٰ پڑھاتا ہے اور وہ یاد رکھتا ہے۔جس قدر اللہ چاہے اس میں سے بھول بھی جاتا ہے۔غرض اس نے اپنی پاک راہوں کو دکھانے کے لئے اپنی تعلیم بھیج دی ہے اور بتا دیا ہے۔إنَّهُ يُعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا يَخْفى الاعلى ) نیکی سیکھنے اور اس پر چلنے کا طریق یہ ہے کہ اللہ کو دانائے آشکار و غیب جانے۔دیکھو میں اس مقام پر کھڑا ہوں۔یہ مقام چاہتا ہے کہ میں گند نہ بولوں۔بدی کی راہ نہ بتاؤں۔نیک باتیں جو مجھے آئیں تمہیں سنادوں۔ہاں ایک امر مخفی بھی ہے وہ یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کے لئے کھڑا ہوں یا ریاء و حرص کے لئے۔۔جیسا کہ کشمیر میں واعظ کرتے ہیں۔گھنٹوں منبر پر کھڑے رہتے ہیں۔ایک شخص آکر کہتا ہے۔حضرت! اب بس کرو۔جمعہ کا وقت تنگ ہو گیا۔وہ کہتے ہیں۔بس کیا خاک کریں، ابھی تو دو آنے کے پیسے بھی نہیں ہوئے۔تب ایک شخص اٹھتا ہے اور چندہ کرتا ہے اور اسی طرح اس سے رہائی حاصل کرتے ہیں۔اسی طرح تم کو کیا خبر میرے دل میں کیا درد ہے اور کتنی تڑپ ہے۔دوسری طرف تم یہاں جمعہ کا خطبہ سننے اور نماز جمعہ پڑھنے کے لئے آئے ہو مگر تمہارے دلوں کی کیا خبر کہ ان میں کیا ہے؟ کیونکہ آخر تمہیں میں سے ہیں جو میری مخالفتیں کرتے ہیں۔میری ہی نہیں میرے گھر تک کی بھی۔گو نادان ہیں جو ایسا کہتے ہیں۔سنبھل کر کام کرو۔ایسا نہ ہو کہ خدا ناراض ہو جائے۔ایک جگہ اخفی کو سر کے مقابلہ میں رکھا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفى (طه:۸)۔وہاں منشاء باری تعالیٰ یہ ہے کہ میں ان خیالات کو بھی جانتا ہوں جو آج سے سال یا دو سال یا اس سے زیادہ مدت بعد تمہارے اندر پیدا ہوں گے اور اب خود تمہیں بھی معلوم نہیں۔ایسے نگران علیم و خبیر لطیف و بصیر خدا سے ڈر جاؤ اور نافرمانی نہ کرو۔فَذَكِّرْ إِنْ نُفَعَتِ الذِّكْرَى (الاعلى ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں۔اور اللہ فرماتا ہے کہ نصیحت کرتے رہو۔نصیحت ضرور سودمند ہوتی ہے۔میرا جی چاہتا ہے کہ تم باہر والوں کے لئے نمونہ بنو۔تمہارا لین دین تمہاری گفتار، رفتار، تمہارا چال و چلن تمهارا سر و علن) تمہارا اٹھنا بیٹھنا، تمہارا کھانا پینا ایسا ہو کہ دوسرے لوگ بطور اسوہ حسنہ اسے قرار دیں۔میں افسوس کرتا ہوں کہ یہاں بد معاملگی بھی ہوتی ہے۔بد زبانی بھی ہوتی ہے۔بدلگامی