خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 580 of 703

خطبات نور — Page 580

580 پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ اندھے بہرے ہو کر نہیں سنتے۔میرا جی نہیں چاہتا کہ تم اندھے برے بنو۔ہم تمہیں بہت قرآن مجید سناتے ہیں اور اللہ جانتا ہے تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے۔بلکہ ہم تو کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ہمیں تمہارے سلاموں کی، تمہاری تعظیم کی بھی ضرورت نہیں۔ہمیں ہمارا موٹی بڑھ بڑھ کر رزق دیتا ہے اور ایسی جگہ سے دیتا ہے کہ تمہارے وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔اور یہ پیری مریدی کا روپیہ تو میں ایک کوڑی بھی اپنے پاس نہیں رکھتا تھا بلکہ فوراً مولوی محمد علی کو بھیج دیتا۔مگر گزشتہ سے پیوستہ سال کا ذکر ہے۔مجھے کسی نے کہا ہم تمہاری نگرانی کریں گے۔تب میں نے کہا اچھا! لوگ کہاں تک اور کتنی نگرانی کر سکتے ہیں۔ایک ہزار کسی نے دیا۔میں نے گھر میں رکھ لیا۔پھر ایک شخص نے پانچ سو دیا وہ بھی میں نے رکھ لیا اور خوب تحقیقات کی کہ آیا کسی کو معلوم ہے؟ ہرگز کسی کو کچھ پتہ نہ تھا۔تب میں نے ایک شخص کو بتلایا کہ ڈیڑھ ہزار روپیہ میرے پاس ہے۔وہ تم لے جاؤ۔مگر کوئی تحقیق کر کے بتائے تو سی که روپیه روپیہ کس نے دیا اور کہاں سے آیا؟ مجھے خوب معلوم تھا دینے والا کبھی ذکر نہیں کرے گا۔غرض اللہ ہی نگرانی کر سکتا ہے۔رحمن کے پیارے دعاوں میں لگے رہتے ہیں اور اپنی بیوی اپنے بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں۔اور دعا کیوں نہ کریں۔حکم ہوتا ہے۔اگر تم دعاؤں سے کام نہ لو تو اللہ کو تمہاری کیا پروا ہے اور تم ہو ہی کیا 92 آج میرے نفس نے اجازت نہ دی کہ میں جمعہ پڑھانے آؤں کیونکہ مجھے تکلیف ہو گئی تھی۔پھر میں نے سوچا کہ شاید یہی جمعہ آخر کا جمعہ ہو۔اللہ تمہیں دعاؤں اور اعمال حسنہ کی توفیق دے۔الفضل جلدا نمبر۵-۰-۱۶ جولائی ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) ☆-⭑-⭑-☆