خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 47 of 703

خطبات نور — Page 47

47 اس عصر کے وقت میں کیا کر سکتے ہو ؟ چار کاموں کے لئے ارشاد فرمایا۔وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي محشر ساری مخلوق کھانے میں ہے۔انسان گویا برف کا تاجر ہے۔برف پر ایک وقت آئے گا کہ ساری پکھل جائے گی اس لئے برف کے تاجر کو لازم ہے کہ بہت ہی احتیاط کرے۔انسان بھی اگر غور کرے تو عمر کے لحاظ سے اس کو برف کا کارخانہ ملا ہے۔ایک بچہ کی ماں اپنے بیٹے کو چار برس کا دیکھ کر خوش ہو رہی ہے لیکن حقیقت میں اس کی عمر میں سے چار برس کم ہو چکے ہیں۔پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمردم بدم گزرتی اور برف کی طرح چھلتی جاتی ہے اور اس وقت کا علم نہیں جب یہ تمام ہو۔اس لئے انسان کو لازم ہے کہ اپنے وقت کی قدر کرے اور عمر کو غنیمت سمجھے اور اس تھوڑے سے دنوں میں جو اس کو مل گئے ہیں مولا کریم سے ایسا معاملہ کرے کہ ان کے گزرنے پر اس کو عظیم الشان آرام گاہ حاصل ہو۔بڑے بد بخت ہیں وہ جو اپنے بیوی بچے کے آرام کے لئے دین برباد کرتے ہیں۔یاد رکھیں کہ مال ، اسباب، عزیزوں رشتہ داروں سے برخوردار ہونا اور فائدہ اٹھانا محض مولیٰ کریم کے فضل پر ہے۔اس سورۃ شریفہ میں فرمایا کہ سب انسان گھاٹے میں پڑ رہے ہیں مگر ایک قوم نہیں۔وہ کون؟ الا الَّذِيْنَ امنوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحْتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوا بالصبر - چار باتوں کو دستور العمل بنالے تو اس عصر کے وقت سارے دن کی مزدوریوں سے زیادہ مزدوری مل جاوے۔حدیث میں لکھا ہے کہ صبح سے شام تک مزدور کے لئے ایک دینار ہے۔پس صبح والے مزدوروں نے دوپہر تک کام کیا اور چھوڑ بیٹھے ، پھر اور مزدوروں نے دوپہر سے عصر تک کام کیا اور پھر کام کو ترک کر دیا۔مگر تیسری اور جماعت مزدوروں کی آئی جنہوں نے عصر سے کام کو شروع کیا آخر دن تک تو ان کے لئے دو دینار مزدوری ملی۔مگر قرآن شریف سے یہ ملتا ہے کہ جب ایک مومن عمل کرتا ہے تو اس کو دس گنا بڑھ کر اجر ملتا ہے۔غرض وہ چار باتیں کیا ہیں جن کا اس سورۃ میں ذکر ہے؟ ان میں اول اور مقدم ایمان ہے۔یہ عظیم الشان چیز ہے۔بدوں اس کے کوئی عمل مقبول ہی نہیں ہوتا۔ہر ایک عمل میں ضروری ہے کہ ایمان اخلاص اور صواب ہو۔یہ پتہ لگانا کہ کس درجہ کا مومن ہے، آسان نہیں۔ایک دراز تجربہ کے بعد معلوم ہو سکتا ہے۔شادی غمی کا موقع آتا ہے۔ایک طرف اللہ تعالیٰ کی حکومت ہے اور دوسری طرف برادری کا قانون اور قومی محرکات۔اب اگر اللہ تعالیٰ کی حکومت سے نہیں نکلتا اور قومی اور برادری کے اصولوں کی پروا نہیں کرتا تو بیشک مخلص مومن ہے۔ایک طرف نفس کا فیصلہ ہو، دوسری طرف قوم کا فیصلہ اور تیسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا