خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 549 of 703

خطبات نور — Page 549

549 میں نے تم کو کیوں کی ؟ تم میں کوئی رسول کریم کے صحابہ مکہ میں تو بیٹھے ہوئے ہیں ہی نہیں۔میں تم کو سمجھانے کے لئے کھڑا ہو گیا۔یاد رکھو جو امن اور اصلاح کے زمانے میں فساد اور شرات کرتا ہے، وہ سزا کا بہت ہی بڑا مستحق ہے۔میرا اعتقاد ہے۔جہاں کوئی پاک تعلیم لاتا ہے، جہاں لوگ سفر کر کے جاتے ہیں، وہاں مکانوں کی تنگی کھانا سادہ ملتا ہے یا نہیں ملتا۔ایسی مصیبتیں جو لوگ اٹھا کر یہاں آئے ہیں اور وہ دن رات قرآن سیکھتے ہیں، یہاں اگر کوئی فساد کرے تو وہ اصلاح کا کیسا خطرناک دشمن ہے۔فَأَكْثَرُوْا فِيْهَا الْفَسَادَ فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَاب۔مجھ کو یقین ہے کہ جہاں بڑے بڑے لوگ ہیں وہاں بڑے بڑے سامان بہت سے مل سکتے ہیں۔ان مکانوں کو چھوڑ کر جب کوئی یہاں آتا ہے تو وہ ہم کو بطور نمونہ کے دیکھتا ہے۔ابھی ایک شخص بنگالہ سے یہاں آئے تھے۔اتفاق سے ان کو مہمان خانہ میں کوئی داڑھی منڈا موچھڑیالہ شخص مل گیا۔انہوں نے مجھ سے شکایت کی کہ ہم تو خیال کرتے تھے کہ قادیان میں فرشتے ہی رہتے ہیں۔یہاں تو ایسے لوگ بھی ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد وہ شخص بھی آگیا جس کی شکل سے مجھ کو بھی شبہ ہوا کہ یہ مسلمان ہے یا ہندو۔میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کیسے آئے ہیں؟ کہنے لگا کہ میں بیمار ہوں۔علاج کرانے کے لئے یہاں آیا ہوں۔الغرض جب لوگ یہاں آتے ہیں تو تم کو بہت دیکھتے ہیں۔اب تم کو سوچنا چاہئے کہ اگر تم اصلاح کے لئے آئے ہو تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہاں امن اور اصلاح ہو وہاں فساد اور شرارت بری بات ہے۔جہاں کوئی مصلح آیا ہو وہاں فساد کیسا؟ اب تم ہی بتاؤ کہ اگر تم یہاں فساد کرو تو فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابِ کے سب سے بڑھ کر مستحق ہو یا نہیں؟ میں تمہارے سامنے یہ بطور اپیل کے پیش کرتا ہوں۔جناب الہی مکہ والوں کو فرماتے ہیں کہ تمہیں انصاف کرو۔هَلْ فِي ذَلِكَ قَسَمْ لِذِي حِجْرِ کیا کوئی عقلمند ہے جو ہماری بات کو سمجھ جائے اور تہ کو پہنچ جائے ؟ باہر تم گند کرو تو اس قدر نقصان نہیں پہنچا سکتے جس قدر یہاں پہنچا سکتے ہو۔جناب الہی فرماتے ہیں فَلَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلُهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَن بعض کو آسودگی سے ابتلا میں ڈالتے ہیں۔وہ جناب الہی کے فضل کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں رَبِّي أَكْر مَن۔جب تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں رَبِّي أَهَانَن کہ ہماری بڑی اہانت ہوئی۔میں تم کو اور اپنے آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر کسی کو یہ تعلیم نا پسند ہے اور یہاں تم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا تو تمہارے یہاں سے چلے جانے میں کوئی ہرج نہیں۔گلا بَلْ لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ وَلَا تَحْضُّونَ عَلَى طَعَامِ الْمِسْکین قیموں کا تم لحاظ کرو وہ میرے پاس آتے ہیں۔میرے میں اتنی گنجائش نہیں۔