خطبات نور — Page 548
548 اسماء حسنی اللہ تعالیٰ کے افعال اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، یہ چار باتیں جناب الہی کے متعلق ہوتی ہیں۔ملائکہ اللہ تعالیٰ کے اسماء اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر جو لوگ اعتراض کرتے ہیں ان کو روکنا جزا و سزا کتب الہی پر ایمان یہ بڑے مسائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں آتے ہیں۔ان دلائل میں سے بڑی عظیم الشان بات اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کریمہ میں فرمائی ہے کہ ہر ملک میں کوئی نہ کوئی قوم بڑی سخت ہوتی ہے۔جس شہر میں میرا پرانا گھر تھا وہاں پر ایک سید کی زیارت ہے۔اس شہر میں ان کی قبر پر جا کر قسم کھانا بڑی قسم ہے۔اسی طرح بعض زمیندار جھوٹی قسم کھا لیتے ہیں مگر دودھ پوت کی قسم نہیں کھاتے۔اسی طرح ہندو گائے کی دم پکڑ کر قسم نہیں کھاسکتے۔غرضیکہ ہر قوم اپنے ثبوت کے لئے کسی نہ کسی عظیم الشان قسم کو جڑھ بنائے بیٹھی ہے۔عرب کے لوگ ہر ایک جرم کا ارتکاب کر لیتے تھے لیکن مکہ معظمہ کی تعظیم ان کے رگ وریشہ میں بسی ہوئی تھی یہاں تک کہ جن ایام میں مکہ معظمہ میں آمد و رفت ہوتی تھی۔کیا مطلب! ذی قعد ذی الحج اور رجب میں وہ اگر اپنے باپ کے قاتل پر بھی موقع پاتے تھے تو اس کو بھی قتل نہیں کرتے تھے۔تم جانتے ہو کہ جب شکاری آدمی کے سامنے شکار آجاتا ہے تو اس کے ہوش و حواس اڑ جاتے ہیں۔لیکن عرب میں جب حدود حرم کے اندر شکار آجاتا تھا تو اس کو نہیں چھیڑتے تھے۔پھر دس راتیں حج کے دنوں کی بڑے چین و امن کا زمانہ ہوتا تھا۔ان دنوں میں بدمعاش لوگ بھی فساد اور شرارتیں نہیں کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو یاد دلاتا ہے کہ ان امن کے دنوں میں تم اپنے باپ اور بھائی کے قاتل کو بھی باوجود قابو یافتہ ہونے کے قتل نہیں کرتے تھے۔تم اللہ تعالیٰ کو یاد کرو کہ اب تم لوگ اللہ کے رسول کی مخالفت کو ان دنوں میں بھی نہیں چھوڑتے۔اور کیا تم کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول جو عرب سے باہر آئے ہیں مثلاً مصر کے ملک میں فرعون تھا اس کے پاس رسول آیا یعنی فرعون کو سزا دی ، جو خدا کے رسول موسیٰ" کے مقابلہ میں تھا۔پھر ہم نے عاد اور ثمود کی اقوام کو سزائیں دیں جو ہمارے رسولوں کے مقابل کھڑی ہوئیں۔اور تم تو مکہ میں اور پھر حج کے دنوں میں بھی شرارت کرتے ہو اور نہیں رکتے تو تمہیں انصاف سے کہو کہ آیا تم سب سے زیادہ سزا کے مستحق ہو کہ نہیں؟ نیکی ہو یا بدی بلحاظ زمان و مکان کے اس میں فرق آجاتا ہے۔ایک شخص کا گرمی کے موسم میں کسی کو جنگل ریگستان میں ایک گلاس پانی کا دینا جبکہ وہ شدت پیاس سے دم بہ لب ہو چکا ہو، ایک شان رکھتا ہے۔مگر بارش کے دنوں میں دریا کے کنارے پر کسی کو پانی کا ایک گلاس دینا وہ شان نہیں رکھتا۔یہ بات