خطبات نور — Page 45
۲۳ / اپریل ۱۹۰۰ء 45 خطبہ جمعہ وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ و تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر: ۲ تام) کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا:۔قرآن کریم سے بڑھ کر دنیا کے لئے کوئی نور شفا رحمت، فضل اور ہدایت نہیں ہے اور قرآن کریم سے بڑھ کر کوئی مجموعہ سچی باتوں کا نہیں ہے۔یہ سچ اور بالکل سچ ہے۔أَصْدَقُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ - اس قرآن کی ایک مختصر سی سورۃ میں اس جمعہ میں سنانے کو کھڑا ہوا ہوں۔ذرا سی سورۃ ہے، ایک سطر میں تمام ہو گئی ہے۔لیکن اگر اسی ذراسی سورۃ کو انسان اپنا دستور العمل بنالے تو کوئی چیز اس سے باہر نہیں رہ جاتی۔اس سورۃ کو مولیٰ کریم نے عصر کے لفظ سے شروع فرمایا ہے۔انسان کے واسطے دن معاش کا ذریعہ اور رات آرام کا وقت بنایا ہے اور فرمایا وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا (النبا:) سرور عالم مخربنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بَارَكَ اللهُ فِي بُكُورِهَا (ترمذی کتاب البیوع) فرمایا۔کس قسم کا معاش؟ دنیوی معاش اخروی معاش کے لئے یہ جگہ ہے۔اَلدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ۔جیسا بیج بوو گے انجام کار