خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 517 of 703

خطبات نور — Page 517

517 عبادات کی معاملات کی ، مگر باوجود ان تمام پابندیوں کے اسلام میں روز بروز ترقی ہے۔یہ کیسا خیر کثیر ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو عطا ہو رہا ہے۔ایک ملا تو کہے گا کہ اعطینا صیغہ ماضی کا بمعنی مضارع ہے۔آخرت میں آپ کو حوض کوثر عطا ہو گا۔اَسْلَمْنَا۔اس میں کلام نہیں کہ آخرت میں حوض کوثر آپ کو عطا ہو گا۔مگر اس میں کیا شک ہے کہ دنیا میں جس کثرت سے آپ پر عطیات الہی ہوئے وہ احد و بے مثل ہیں۔کوثر کا لفظ کثیر سے مشتق ہے۔پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ایک بے ایک صحابی ہیں ، چالیسں بلکہ ساتھ پر فاتح ہوا۔خود پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مقام مقبلا نہ ایسا تھا کہ جس کی نظیر نہیں۔پنجوقت نماز آپ خود پڑھاتے تھے۔سارے قضایا آپ خود ہی فیصلہ کرتے تھے۔بیویاں جس قدر آپ کی تھیں ان کی خاطر داری اس قدر تھی کہ سب آپ سے خوش تھیں۔لوگ کہتے ہیں کہ اس زمانہ کی عورتوں کی پوزیشن ہی کچھ ایسی تھی کہ زیادہ تکلفات نہ تھے۔مگر عورتوں کی جبلت کا بیان یوں فرمایا ہے کہ مرد کی عقل کو چرخ دینے والی عورتوں سے بڑھ کر اور کوئی مخلوق میں نے نہیں دیکھی کہ عقلمند مرد کی عقل کو کھو دیتی ہیں۔عورتوں پر ہر بات میں تشدد مت کرو۔لڑکوں کو بھی مارنے اور سزا دینے کا میں سخت مخالف ہوں۔حضرت صاحب بھی لڑکوں کو مارنے سے بہت منع کیا کرتے تھے۔میں تو انگریزی پڑھا نہیں۔سنا ہے کہ یونیورسٹی کی بھی یہی ہدایت ہے کہ استاد طلباء کو نہ مارا کریں۔باوجود ان تاکیدوں کے لوگ بچوں کے مارنے سے باز نہیں آتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ تو ہمارا فرض منصبی ہے۔وہ جھوٹ کہتے ہیں۔بہت لوگ ہیں کہ وعظ کرنا تو سیکھ لیتے ہیں مگر خود عمل درآمد نہیں سیکھتے۔تمہارے ہاتھوں میں اب سلطنت نہیں رہی۔اگر تم اچھے ہوتے تو سلطنتیں تم سے نہ چھینی جاتیں۔(پدر جلد نمبر ۱۲-۲۱۰۰۰ دسمبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲) ⭑-⭑-⭑-⭑