خطبات نور — Page 516
۱۵ دسمبر ۱۹۱۱ء 516 خطبہ جمعہ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ - فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ - إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (الکوثر:۲ تا ۴) کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔میں اس بات میں خوش ہوں کہ ہر روز مجھے دن میں چار مرتبہ روحانی غذا پہنچتی ہے۔صبح مستورات میں درس قرآن شریف سناتا ہوں۔دوپہر کو حدیث شریف باہر پڑھاتا ہوں۔سہ پہر کو بھی درس تدریس ہی رہتا ہے۔شام کو مغرب سے پہلے پھر درس قرآن شریف ہوتا ہے۔ان چھوٹے دنوں میں روح کی ان بار بار کی غذاؤں کا میں بھی محتاج ہوں۔کوثر کے معنی خیر کثیر کے ہیں۔پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دنیا میں تنہا تھے۔بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیا کچھ خیر کثیر دیا اور دیتا جا رہا ہے۔سکھوں کا مذہب صرف اتنا ہی ہے کہ اللہ کو ایک مان لو اور دعا کر لو۔کوئی زیادہ قیدیں اس مذہب میں نہیں۔مگر باوجود اس آسانی کے پھر بھی اس مذہب میں کوئی ترقی نہیں۔بخلاف اسلام کے کہ اس میں بہت ساری پابندیاں ہیں۔نماز کی روزہ کی حج کی زکوۃ کی اور دیگر