خطبات نور — Page 498
19 جون ۱۹۱۱ء 498 خطبہ جمعہ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ إِيْتَايِ ذِي الْقُرْنِي وَ يَنْهَى عَنْ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النحل :(9) میں بڑے ارادہ سے آیا ہوں۔بڑے اخلاص کے ساتھ درد مند دل لے کے یہاں کھڑا ہوں۔ایک طرف پاؤں مضبوطی سے کھڑا نہیں ہوتا، دوسری طرف بات کہنے کو جی چاہتا ہے۔بیماری میں ساتواں مہینہ ختم ہونے کو ہے مگر اللہ تعالیٰ نے زبان کو محفوظ رکھا ہے۔بہکی بہکی باتیں کبھی نہیں کیں۔ڈاکٹروں سے پوچھا ہے۔انہوں نے شہادت دی ہے کہ کلوروفارم سونگھنے کی حالت میں بھی کوئی بہکی بات میرے منہ سے نہیں نکلی۔پس اس وقت بقائمی ہوش و حواس تمہیں چند باتیں کہتا ہوں جو تم میں سے مان لے گا اس کا بھلا ہو گا اور جو نہ مانے گا اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انصاف کرو۔تم میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو چاہتا ہے یا پسند کرتا ہے کہ مجھے کوئی گالی دے یا میری کوئی ہتک کرے یا میرے ننگ و ناموس میں فرق ڈالے یا نقصان کرے یا بدی سے پیش آئے یا تحقیر کرے؟ میرا ملازم سستی سے کام لے ؟ جب تم نہیں چاہتے تو